معارف العلوم اسلامی خانپورہ کھاگ کی لوگوں نے سراہنا کی
سرینگر / /غل باغات میں جہاں بے پردہ سیاحوں کا رش ہوتا ہے وہیں آج ان باغات میں معارف العلوم اسلامی خانپورہ کھاگ کی باپردہ چھوٹی چھوٹی بچیاں ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر وارد ہوئیں ان پْلے کارڈس پر پردے کے متعلق معلومات اور بے پردگی کے خلاف نعرے درج تھے اور وہاں موجود سیاح انگشت بدنداں رہے ۔اس ضمن میں لوگوں نے ان بچیوں کے علاوہ معارف العلوم اسلامی کے مدرسین کی کافی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ بے پردگی کے اس دور میں ایسا کام انجام دینا ایک بہترین کام ہے کشمیر پریس سروس کے موصولہ اطلاعات کے مطابق جب معارف العلوم اسلامی خانپورہ کے مدرسین اور منتظمین سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم پردے کو عام کریں ۔اس دوران کنوینئر کوثر علی میر نے بتایا کہ پردہ ایک عورت کیلئے ضروری ہے اور ایک باپردہ عورت باحیا اور باحوصلہ بن جاتی ہے ہم نے یہ پروگرام اسی لئے ترتیب دیا تھاتاکہ ہماری بیٹیاں یہ سمجھیں کہ پردہ کوئی اذیت نہیں بلکہ ایک عورت کی عفت ہے ۔اس دوران مدرس محمد اقبال خان کا کہنا ہے کہ مسلمان عورتوں کیلئے پردہ ضروری ہے جب تک اس کے سر پر پردہ ہے تب تک وہ دشمنوں اور بے حیا ء مردوں سے محفوظ ہے ۔اس موقعہ پربا ت کرتے ہوئے مدرس عبد القیوم خان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے درسگاہوں میں بچیوں کو پردہ کرنے پر زور دیتے ہیں مگر جب یہی بچیاں سیرکرنے کیلئے یا گھومنے جاتی ہیں تو بْرہنہ سر نکلتی ہیں بازاروں میں ننگے سر گھومتی ہیں اسی لئے ہم نے ان بچیوں کو اس طرف مائل کیا کہ ایک باپردہ عورت یا بچی بھی بازار جاسکتی ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔لیکن پردے میں رہ کر وہ دنیا کی سیر کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حیاء اور پردہ ہی عورت کے تحفظ اور عزت کی ضمانت ہے ۔اس موقعہ پر بہت سارے لوگوں نے ان بچیوں کے ویڈیو بنائے اور فوٹو گرافی کی انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات پر ایسا ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں ایک ذی عزت شہری جس نے اپنی عمر پچپن سال بتائی نے کہا کہ میں اپنی عمر میں ایسا پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ ہماری باپردہ بچیاں ان باغات کی سیر کرنے آئیں اور بے پردگی کے خلاف ہاتھوں میںپْلے کارڈ س لیکر ایک خاموش احتجاج بھی کیا یہ عمل ہمارے دینی اداروں کیلئے چشم کْشا ہے اور ہمارے سبھی دینی دانشگاہوں کو ایسا کرنا چاہئے تاکہ ہماری بچیاں پردے کی طرف مائل ہوجائیں۔










