جیش محمد سے وابستہ 2ملی ٹنٹ اورCISFافسر ہلاک،متعدد اہلکار زخمی
دونوںکی ہلاکت اہم کامیابی، جموںمیں ممکنہ فدائین حملے کی کوشش یامنصوبہ بندی ناکام:ADGPجموں مکیش سنگھ
سری نگر//وزیراعظم نریندرمودی کی سانبہ آمدسے 2روزقبل جموں کے جلا ل آباد سنجواں علاقے میں جمعہ کی صبح مشتبہ جنگجوئوںنے سینٹرل انڈسٹرئیل فورس (CISF)اہلکاروں سے بھری ایک بس پرصبح صادق سے پہلے تقریباً ساڑھے 4بجے اندھا دھند فائرنگ کی اوربعض اطلاعات کے مطابق گرینیڈ بھی داغے ۔ جنگجوئوںکے اس اچانک حملے میں سی آئی ایس ایف کے ایک اے ایس آئی ازجان ہوگئے جبکہ بس میں سوار دیگر 2 افراد بھی زخمی ہوئے ۔سیکورٹی فورسزکی جوابی کارروائی میں 2ملی ٹنٹ مارے گئے ۔جن کاتعلق کالعدم تنظیم جیش محمد سے بتایاجاتا ہے۔سیکورٹی حکام کہتے ہیں کہ مارے گئے دونوں ملی ٹنٹ ’فدائین‘حملہ آورتھے ،اور دونوں کی ہلاکت سے جموںمیں ممکنہ فدائین حملے کی کوشش یامنصوبہ بندی ناکام بنادی گئی۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق 24اپریل کووزیراعظم مودی کی سانبہ آمد کے پیش نظر صوبہ جموںمیں سخت یااضافی سیکورٹی انتظامات کے باجود جمعہ کوعلی الصبح مشتبہ جنگجوئوںنے فورسزاہلکاروںکی ایک گاڑی کونشانہ بنایا۔سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے عہدیداروں نے بتایا کہ صبح کی شفٹ کیلئے15 اہلکاروں کو لے کر جانے والی بس پر سنجوان علاقہ میں چڈھا کیمپ کے قریب صبح 4بجکر25منٹ پر حملہ ہوا۔پیرا ملٹری فورس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ جنگجوئوں نے بس پر فائرنگ کی اور گرینیڈ پھینکے جس سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) ایس پی پاٹل ہلاک اور بس میں سوار2دیگر افراد زخمی ہوگئے۔فورسزافسر نے بتایا کہ سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس نے مؤثر طریقے سے جوابی کارروائی کی ۔ حکام کے مطابق سی آئی ایس ایف کی بس پر حملے کے بعد جنگجوئوں نے علاقے میں محمد انور نامی شہری کے رہائشی مکان میں پناہ لی۔جموں کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مکیش سنگھ نے کہا کہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف نے علاقے میں مشترکہ تلاشی مہم شروع کی۔مکیش سنگھ نے انکائونٹر مقام کے نزدیک نامہ نگاروں کوبتایاکہ ہمارے پاس جنگجوئوں کی کچھ منصوبہ بندی کے بارے میں اطلاعات تھیں (وزیراعظم کے دورے کے موقع پر)۔ ایک ان پٹ کی بنیاد پر ایک گھیراؤ کیا گیا اور تلاشی پارٹی گولی کی زد میں آگئی، جس کے نتیجے میں ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 4دیگر زخمی ہوگئے۔حکام نے بتایا کہ2 پولیس اہلکاروں سمیت کل9 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے اور انہیں گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) ہسپتال لے جایا گیا۔جموں کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مکیش سنگھ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ’فدائین‘حملہ آور تھے۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے کہاکہ جموں کے جلال آباد سنجواں علاقے میں چھپے ہوئے2 جنگجوؤں کو پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ ٹیم کے ساتھ ایک تصادم کے دوران مارا گیا۔انہوںنے بتایا کہ سیکورٹی فورسزکی فوری جوابی کارروائی میں 2ملی ٹنٹ مارے گئے ہیں۔اے ڈی جی پی جموںنے بتایاکہ جلال آباد سنجواں جموںمیں جاری آپریشن کے دوران ابتک 2ملی ٹنٹ مارے گئے ،جن کی تحویل سے 2اے کے 47رائفل،ایک یوبی جی لانچر، اسلحہ اور گولہ بارود، سیٹلائٹ فون اورکچھ دستاویزات برآمد ہوئے۔انہوں نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ ’’دائین ’’ حملہ آور تھے۔ انہوںنے کہاکہ دونوں جیش جنگجوئوںکی ہلاکت سے جموںمیں ممکنہ فدائین حملے کی کوشش یامنصوبہ بندی ناکام بنادی گئی ہے۔اس دوران ذرائع نے بتایا کہ جلال آباد سنجواں جموں میں جمعہ کی صبح ہوئی جھڑپ کے دوران ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم 11سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے تاہم سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔عہدیداروں نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت سی آئی ایس ایف کے اے ایس آئی ایس پی پٹیل کے طور پر کی ہے جبکہ کچھ زخمیوں میں کٹھوعہ کے پولیس ہیڈ کانسٹیبل بلراج سنگھ، اکھنور کے ایس پی او ساحل شرما، اڈیشہ کے سی آئی ایس ایف کے پرمود پاترا اور آسام کے امیر سورن شامل ہیں۔










