Lt Governor with a delegation led by Former MLC, Sh Surinder Choudhary

سابق قانون سازوں نے لفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی ، عوامی اہمیت کے مسائل کو اجاگر کیا

جموں//سابق قانون سازوں نے عوامی وفود کے ہمراہ لفٹینٹ گورنر منوج سنہا سے راج بھون میں عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے اہم مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے ملاقات کی ۔ سابق ایم ایل سی سریندر چودھری نے نوشہرہ اور سندر بنی علاقے کے سرحدی باشندوں اور قبائلیوں کے وفد کے ساتھ آج لفٹینٹ گورنر کے ساتھ ملاقات کی ۔ انہوں نے سرحد پار گولہ باری سے لوگوں کی جانوں کی حفاظت کیلئے انفرادی /کمیونٹی بارڈر بنکروں کی تعمیر سے متعلق اپنے مسائل کے بارے میں آگاہ کیا ۔ اس موقع پر عوامی وفد نے لفٹینٹ گورنر کی کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے جنگلات کے حقوق ایکٹ کو نافذ کر کے قبائلیوں کو مناسب حقوق دئیے ۔ انہوں نے خانہ بدوش آبادی کے پہلے جامع سروے کیلئے بھی اظہار تشکر کیا ، جس کا مقصد مختلف قبائل کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے منصوبہ بندی کرنا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے وفد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت جامع ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے پُر عزم ہے ۔ انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے تمام حقیقی مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے گا ۔ اسی طرح سابق ایم ایل اے رام نگر رنبیر سنگھ پٹھانیا نے لفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی اور عوامی اہمیت کے مختلف مسائل پیش کئے ، اس کے علاوہ یو ٹی انتظامیہ کو جموں و کشمیر میں انقلابی اصلاحات اور عوام دوست انتظامی اقدامات شروع کرنے پر مبارکباد دی ۔ انہوں نے رام نگر کی سیاحت کی صلاحیت کو پروان چڑھانے کیلئے ایک خصوصی اسکیم بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی ۔ رام نگر میں باندر بن پارک پروجیکٹ کی تکمیل ، شہید راجیشور سنگھ پارک ، دیہاری پر کام کا آغاز اور رانی پارک رام نگر میں راجہ رام سنگھ کے مجسمے کی تنصیب ، سدھ مہا دیو سے رام نگر تک قومی شاہراہ کی تعمیر کے علاوہ رام نگر میں مختلف اہم سڑکوں اور پلوں کی فوری مرمت کا مطالبہ کیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے مسائل کا نوٹس لیا اور حقیقی مطالبات کے ازالے کی یقین دہانی کرائی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پٹھانیا عام عوام کو بااختیار بنانے کیلئے کام جاری رکھیں ۔ دریں اثنا سابق ایم ایل سی سردار چرنجیت سنگھ خالصہ کی قیادت میں سکھ برادری کے ایک وفد نے لفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی اور انہیں 1947 کے مہاجرین کیلئے مالی پیکج کے تحت 5300 چھوڑے ہوئے خاندانوں کو شامل کرنا ، کیمپوں /بستیوں میں زمین کے چھوٹے پلاٹوں کے ملکیتی حقوق کی فراہمی جس پر بے گھر خاندانوں نے پکے گھر بنائے ہیں ، پوری یو ٹی میں سکھ ورثہ کے مقامات کا تحفظ اور بہتری ،سکھ برادری کے دیگر مسائل کے علاوہ جدید رہائشی بابا بندہ سنگھ بہادر میموریل پبلک سکول نوشہرہ کی تعمیر کے علاوہ دیگر مسائل اٹھائے ۔ لفٹینٹ گورنر نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے حقیقی مسائل کا جلد ازالہ کیا جائے گا اور سابق قانون ساز پر زور دیا کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اپنی مسلسل کوششیں جاری رکھیں ۔ اسی طرح راجوری کے ایک اور وفد نے سابق وزیر چودھری ذولفقار علی کی قیادت میں لفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سے آگاہ کیا ۔ وفد نے مطالبات کا ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں راج نگر بدھل سے شوپیاں روڈ کی تعمیر ، بی ایچ سی بدھل کی اپ گریڈیشن اور راجوری ، رام بن اور ریاسی ہائی وے کے مرکزی مقام کے پیش نظر ٹراما سینٹر کی تعمیر کیندریہ ودھیالیہ کی منظوری ، روڈ نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ پورے پیر پنچال رینج کو سیاحت کے نقشے پر لانے کے علاوہ دیگر مسائل ابھارے ۔ لفٹینٹ گورنر نے وفد کو غور سے سُنا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے تمام حقیقی مسائل اور مطالبات کا جائیزہ لیا جائے تا کہ ان کی فلاح و بہبود کیلئے صحیح طریقے سے موثر اقدامات کئے جا سکیں ۔ بعد میں ڈینٹل سرجن ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے اس کے صدر ڈاکٹر راہول کول کی قیادت میں لفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی اور کئی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے وفود کے ارکان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے علاوہ معاشرے کے تمام طبقات کی ترقی کیلئے منصفانہ اور متوازن ترقی کے ایجنڈے کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔