حکومتی سطح پر وقف بورڈ کی تشکیل شریعت کے منافی: آغا سید حسن

سری نگر، 30 جنوری (یو این آئی) انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر میں شیعہ وقف بورڈ تشکیل دینے کے مبینہ منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کا یہ اقدام وقف بورڈ کے بارے میں طے شدہ شرعی قواعد و ضوابط کی پامالی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اوقاف کا اپنا ایک مستقل بورڈ ہوتا ہے جو شرعی قواعد و ضوابط کے عین مطابق اس کو چلا کر مستحقوں کی مدد و معاونت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کا یہ اقدام اگر شریعت کے ساتھ متصادم ہوگا تو اس کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صدر انجمن شرعی نے مرکزی حکومت کے اس اعلان کہ ‘جموں و کشمیر میں وقف بورڈ تشکیل دینے کا عمل شروع کیا گیا ہے، کے رد عمل میں یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم صدیوں سے یہاں اپنے اوقاف کا انتظام و انصرام ایک بورڈ کے تحت چلا رہے ہیں اور یہ بورڈ تحت شریعت تشکیل پاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شریعت میں جس طرح احکام اسلامی کی انجام دہی جیسے نماز، حج، روزہ وغیرہ کے لئے الگ الگ بابوں میں وضاحت کی گئی ہے اسی طرح شریعت کے تحت اوقاف چلانے کا بھی ایک مستقل باب ہے جس میں بورڈ کو چلانے کے لئے تمام تر اصول و ضوابط کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس پر عمل پیرا ہونا ہم پر واجب ہے۔
موصوف صدر نے کہا کہ ہمارے اوقاف سے شرعی اصولوں کے تحت مستحقین مستفید ہو رہے ہیں اور اس کے علاوہ شریعت کی تبلیغ و تشریح بھی ہوتی ہے اور اس شرعی اثاثے کا تحفظ بھی ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی اوقاف کا کوئی متولی ٹھیک نہیں ہے تو اس کے خلاف تحت شریعت ہی کارروائی انجام دی جاتی ہے اور اوقاف کو منظم کیا جاتا ہے۔
قبل ازیں آغا سید حسن موسوی کی صدرات میں بدھ کے روز انجمن شرعی شیعیان کے صدر دفتر پر علما کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر میں مبینہ شیعہ وقف بورڈ تشکیل دینے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اس اجلاس میں چھ رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس ضمن میں علما و مفکرین کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے ایک لائحہ عمل تیار کرے گی۔
اجلاس میں مجلس علماء کی تشکیل کے بارے میں بھی حتمی فیصلہ لیا گیا اور ایک آزاد و خودمختار شیعہ وقف بورڈ بنانے کے بارے میں اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا جسے جموں و کشمیر میں شیعہ اوقاف کو منظم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
دریں اثنا مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے گذشتہ روز نئی دہلی میں مرکزی وقف کونسل کی جانب سے وقف بورڈ کے افسران کے لیے منعقد اورینٹیشن پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری میں وقف بورڈ تشکیل دینے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں تشکیل ہونے والے بورڈ کی جانب سے وقف جائیداد کا بہتر استعمال یقینی ہوگا اور ان جائیدادوں کے سماجی، معاشی، تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کے لیے ‘پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم’ (پی ایم جے وی کے) کے تحت حکومت کی جانب سے مکمل مدد کی جائے گی۔