انڈر گریجویٹ،این ای ای ٹی2026 امتحان منسوخ

جموں کشمیر سے50 ہزار سے زائد ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس امیدواروں نے کی تھی شرکت

سرینگر//یو این ایس/ / ملک بھر کے لاکھوں طلبہ کے لیے ایک اہم پیش رفت میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے انڈر گریجویٹ،این ای ای ٹی2026کا 3 مئی کو منعقد ہونے والا امتحان مکمل طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ پیپر لیک، امتحانی عمل میں بے ضابطگیوں اور مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے موصول ہونے والی تشویشناک رپورٹس کے بعد کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق یہ فیصلہ حکومت ہند کی منظوری کے بعد لیا گیا ہے اور اب پورے امتحان کو دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔ نئی امتحانی تاریخوں کا اعلان آئندہ دنوں میں سرکاری طور پر کیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے تفصیلی جائزے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ موجودہ امتحانی عمل کو جاری رکھنا شفافیت اور اعتماد کے مفاد میں ممکن نہیں رہا۔ادارے کے مطابق موصول ہونے والے شواہد اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس نے یہ واضح کر دیا کہ امتحانی نظام میں ایسی خامیاں موجود ہیں جن کے باعث موجودہ نتائج کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اسی لیے پورا امتحانی عمل منسوخ کر کے دوبارہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت نے اس معاملے کی جامع اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے ’سی بی آئی‘کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔ سی بی آئی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پیپر لیک اور مبینہ بے ضابطگیوں کے تمام پہلوؤں کی مکمل جانچ کرے۔این ٹی اے نے کہا ہے کہ وہ اس تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی اور تمام متعلقہ ریکارڈ، دستاویزات اور تکنیکی ڈیٹا فراہم کرے گی تاکہ حقیقت سامنے لائی جا سکے۔یو این ایس کے مطابق ادارے نے واضح کیا ہے کہ دوبارہ امتحان کے لیے طلبہ کو نئی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی۔ موجودہ رجسٹریشن ڈیٹا، امیدواروں کی تفصیلات اور ان کے منتخب کردہ امتحانی مراکز بدستور برقرار رہیں گے۔این ٹی اے کے مطابق امیدواروں سے پہلے ہی وصول کی گئی امتحانی فیس واپس کی جائے گی، جبکہ دوبارہ امتحان کے لیے کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔ادارے نے مزید کہا کہ دوبارہ امتحان کی نئی تاریخوں کے ساتھ ساتھ نئے ایڈمٹ کارڈز کا شیڈول بھی جلد جاری کیا جائے گا۔ تمام معلومات صرف سرکاری ذرائع کے ذریعے فراہم کی جائیں گی تاکہ غلط معلومات سے بچا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق این ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ اس فیصلے سے طلبہ اور ان کے والدین کو شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم ادارے کے مطابق یہ قدم طویل المدتی طور پر امتحانی نظام پر اعتماد کو بچانے کے لیے ضروری تھا۔حکام نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال کو برقرار رکھا جاتا تو یہ نظام کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا سکتا تھا، اس لیے شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو ترجیح دی گئی۔ انڈر گریجویٹ،این ای ای ٹیملک کا سب سے بڑا میڈیکل داخلہ امتحان ہے جس میں ہر سال لاکھوں طلبہ شرکت کرتے ہیں۔ اس سال کا امتحان 3 مئی کو سخت سیکیورٹی اقدامات کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔یو این ایس کے مطابق این ٹی اے کے مطابق سوالیہ پرچے ’جی پی ایس‘ٹریکنگ گاڑیوں میں منتقل کیے گئے تھے جبکہ امتحانی مراکز میں مصنوعی ذہانت بیسڈ سی سی ٹی وی نگرانی اور مرکزی کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ کی گئی تھی۔تاہم بعد ازاں 7 مئی کو مشتبہ سرگرمیوں سے متعلق اطلاعات موصول ہوئیں جنہیں فوراً مرکزی ایجنسیوں کے حوالے کیا گیا۔ 8 مئی کو ان رپورٹس کی بنیاد پر مزید تحقیقات شروع کی گئیں جن کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا کہ پورے امتحانی عمل کو کالعدم قرار دیا جائے۔حکام کے مطابق دوبارہ امتحان کی تاریخیں جلد جاری کی جائیں گی اور طلبہ کو سرکاری اعلانات پر ہی اعتماد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔جموں کشمیر سے قریب50ہزار کے قریب امیدواروں نے3مئی کو ہونے والے ان امتحانات میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس زمروں میں شرکت کی تھی۔