جموں،سرینگر وندے بھارت ایکسپریس کی مقبولیت عروج پر

جموں،سرینگر وندے بھارت ایکسپریس کی مقبولیت عروج پر

96 فیصد سے زائد نشستیں بھر گئیں، 9 دنوں میں 40 ہزار مسافروں نے سفر کیا

سرینگر// یو این ایس//جموں،سرینگر وندے بھارت ایکسپریس نے اپنے آغاز کے محض چند دنوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کرتے ہوئے مسافروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ادھم پور-سرینگر-بارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) پر چلنے والی اس جدید ٹرین نے نہ صرف سفری سہولیات میں ایک نیا باب رقم کیا ہے بلکہ جموں و کشمیر میں ریلوے رابطے، سیاحت اور مقامی معیشت کیلئے بھی امید کی نئی کرن پیدا کی ہے۔شمالی ریلوے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق وندے بھارت ایکسپریس کی آکوپینسی 96 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسافروں میں اس جدید ریل سروس کیلئے بے پناہ دلچسپی پائی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران ہفتہ اور اتوار کو تقریباً 11 ہزار مسافروں نے اس ٹرین کے ذریعے سفر کیا، جسے خطے میں ریل خدمات کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق ریلوے حکام کے مطابق 2 مئی 2026 کو اس سروس کے باقاعدہ آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً 40 ہزار مسافر وندے بھارت ایکسپریس کے ذریعے سفر کر چکے ہیں۔ صرف ابتدائی نو دنوں کے دوران ٹرین کی اوسط آکوپینسی 86.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اختتام ہفتہ پر یہ شرح 96 فیصد تک پہنچ گئی۔وندے بھارت ایکسپریس جموں اور سرینگر کے درمیان تقریباً 267 کلومیٹر کا فاصلہ محض 4 گھنٹے اور 50 منٹ میں طے کرتی ہے۔ اس سے قبل یہی سفر سڑک کے ذریعے کئی گھنٹوں پر محیط ہوتا تھا اور موسم کی خرابی یا ٹریفک جام کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نئی ریل سروس نے نہ صرف سفر کا وقت نمایاں طور پر کم کیا ہے بلکہ مسافروں کو عالمی معیار کی آرام دہ اور محفوظ سفری سہولیات بھی فراہم کی ہیں۔یہ ٹرین اپنے سفر کے دوران دنیا کے بلند ترین ریلوے پل ’’چناب برج‘‘ اور انجینئرنگ کے شاہکار ’’انجی کھڈ برج‘‘ سے گزرتی ہے، جو مسافروں خصوصاً سیاحوں کیلئے ایک منفرد اور یادگار تجربہ بن چکے ہیں۔ ہمالیائی پہاڑوں، سرنگوں اور سرسبز وادیوں کے دلکش مناظر اس سفر کو مزید پرکشش بنا دیتے ہیں۔مسافروں نے ٹرین میں فراہم کی جانے والی جدید سہولیات، آرام دہ نشستوں، صاف ستھرے کوچز، جدید حفاظتی نظام اور بروقت سروس کی بھرپور تعریف کی ہے۔ کئی مسافروں کا کہنا ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس نے کشمیر کے سفر کو نہ صرف آسان بنایا بلکہ اسے ایک خوشگوار تجربے میں بھی تبدیل کر دیا ہے۔جموں ڈویڑن کے سینئر ڈویڑنل کمرشل منیجر اْچت سنگھل نے وندے بھارت ایکسپریس کی شاندار کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے سیاحتی سیزن کے دوران ٹرین کی آکوپینسی 100 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم مسافروں کو صرف تیز رفتار سفر ہی نہیں بلکہ ہمالیائی وادیوں کے حسین مناظر کے درمیان ایک پْرتعیش، آرام دہ اور محفوظ سفری تجربہ فراہم کرنے کیلئے پْرعزم ہیں۔ جموں ڈویژن مسافروں کی سہولت، حفاظت اور معیاری خدمات کی فراہمی کیلئے مسلسل کام کر رہا ہے۔‘‘ریلوے حکام کا ماننا ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس کے آغاز سے جموں و کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی اور اس سے مقامی تجارت، ہوٹل انڈسٹری اور دیگر شعبوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ ماہرین کے مطابق ادھم پور-سرینگر-بارہمولہ ریل لنک منصوبہ خطے کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ یو ایس بی آر ایل منصوبہ بھارت کے سب سے اہم اور مشکل ریلوے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے، جسے ہمالیائی خطے کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جدید انجینئرنگ تکنیک کے ذریعے مکمل کیا گیا ہے۔ وندے بھارت ایکسپریس کو اسی تاریخی منصوبے کی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔