ایران،امریکہ کشیدگی سے ایندھن و گیس بحران کا خدشہ//ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر// یو این ایس// نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر حکومت شراب پر مکمل پابندی صرف دو منٹ میں لگا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے مرکزی حکومت کو ریاستی آمدنی کے نقصان کی تلافی کرنا ہوگی۔یو این ایس کے مطابق سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے واضح کیا کہ وہ خود شراب نوشی نہیں کرتے، لیکن ان کے مطابق سماجی حقیقت یہ ہے کہ اگر شراب مقامی طور پر دستیاب نہ ہو تو اسے استعمال کرنے والے لوگ اسے بیرون ریاست سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف پابندی نہیں بلکہ اس سے وابستہ معاشی اثرات ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی اس معاملے پر یہی مؤقف سامنے آیا تھا کہ جب تک آمدنی کا متبادل نظام فراہم نہ کیا جائے، مکمل پابندی عملی طور پر مشکل ہے۔فاروق عبداللہ نے 1977 کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم مرارجی دیسائی نے شیخ عبداللہ سے شراب کی فروخت بند کرنے کا کہا تھا، جس پر جواب دیا گیا تھا کہ اگر مرکز آمدنی کا نقصان پورا کرے تو حکومت اس پر عمل کر سکتی ہے، تاہم ایسا کوئی انتظام نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ اگر آج بھی مرکزی حکومت آمدنی کے نقصان کی تلافی کرے تو جموں و کشمیر میں شراب پر پابندی فوری طور پر نافذ کی جا سکتی ہے۔یو این ایس کے مطابق عالمی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جغرافیائی تنازعات کے باعث خطے میں ایندھن اور گیس کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی ماحول میں توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جس کے براہ راست اثرات معیشت پر پڑیں گے۔ ان کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہوئی تو معاشی عدم استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی تنازعات جاری رہے تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کیلئے بھی شدید نقصان دہ ہوں گے۔فاروق عبداللہ نے آن لائن تعلیم کے نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ غریب طبقے کیلئے قابلِ عمل متبادل نہیں ہے کیونکہ ہر گھر میں ڈیجیٹل سہولیات اور انٹرنیٹ کی دستیابی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور حکومت کو ایسا نظام وضع کرنا چاہیے جس میں کمزور اور پسماندہ طبقات متاثر نہ ہوں۔انہوں نے زور دیا کہ ریاستی اور مرکزی سطح پر ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو تعلیم کو سب کیلئے مساوی طور پر قابلِ رسائی بنائیں۔فاروق عبداللہ نے مجموعی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی و اقتصادی حالات ایک بڑے چیلنج کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور ان سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔










