منی پور میں 48 گھنٹے کے نئے بند سے کشیدگی میں اضافہ

منی پور میں 48 گھنٹے کے نئے بند سے کشیدگی میں اضافہ

امپھال/یواین آئی// منی پور کے تھوبل ضلع میں ایک نوجوان کے قتل کے بعد جمعہ کی نصف شب سے 48 گھنٹے کا نیا بند شروع ہوگیا۔ گزشتہ 18 اکتوبر کو تھوبل ضلع میں ایک میتی نوجوان کو قتل کردیا گیا تھا، جب کہ اگلے روز کانگ پوکپی ضلع میں درخت کاٹنے والے تین میتی نوجوانوں کو کوکی عسکریت پسندوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ یہ بند کانگ پوکپی ضلع میں تین میتی نوجوانوں کے قتل کے خلاف تین روزہ بند کے فوراً بعد شروع ہوا ہے ، جس سے ریاست میں بڑھتی ہوئی بدامنی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ پولیس نے قتل کی وارداتوں کے سلسلے میں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور سکیورٹی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ مختلف برادریوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دکانیں اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ دونوں واقعات میں الگ الگ برادریوں کے افراد کے ملوث ہونے کے پیش نظر منی پور حکومت نے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ تھوبل ضلع پولیس نے جمعہ کو بتایا کہ ضلع کے ایک پڑوسی گاؤں کے لوگوں کی فائرنگ میں ایک میتی نوجوان کی ہلاکت کے معاملے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ تھوبل ضلع پولیس کی ٹیموں نے جمعہ کو کھنگابوک-سنگائی یومفم کے آس پاس کے علاقوں میں تلاشی مہم چلائی۔ اس دوران پولیس نے ایک ڈبل بیرل بریچ لوڈنگ بندوق اور 12 بور کی شاٹ گن کے 14 کارتوس برآمد کیے ، جنہیں فارنسک جانچ کے لیے بھیجا جائے گا۔ اس سے قبل، تھوبل کرائم ڈیٹیکشن آرگنائزیشن اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے 20 اکتوبر کو دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے ملزمین کی شناخت محمد خورشید احمد اور محمد عبدالرحمن کے طور پر کی ہے ۔ بند کے باعث بازار اور تعلیمی ادارے بند رہے ۔ اب تک اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ شہری تنظیموں اور نوجوانوں و خواتین کی تنظیموں نے حکومت سے کوکی عسکریت پسندوں کے ساتھ کئے گئے معاہدہ معطلی آپریشنز کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔