باغِ گُلِ داؤد خزاں کے سیاحوں کیلئے ایک بڑی کشش بنے گا ، 3.5 لاکھ پودے ، 70 سے زائد اقسام ، تقریباً 12 ملین پھولوں کی نمائش
سرینگر//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے بوٹنیکل گارڈن چشمہ شاہی سرینگر میں کرسنتم شو 2026 کا افتتاح کیا اور کرسنتم تھیم گارڈن ، جو عام طور پر باغِ گُلِ داؤد کے نام سے مشہور ہے ، عوام کیلئے کھول دیا گیا ۔ یہ کشمیر کے سیاحتی موسم کو بڑھانے اور خزاں کو موسم بہار کے برابر پرکشش بنانے کی طرف ایک اور قدم ہے ۔ عنوان ’ خزاں کو نئے رنگوں سے مالا مال کرنا ‘ یہ شو کرسنتھیمم ( ( گُلِ داؤد ) ک خوبصورتی کو پیش کرتا ہے جس میں مقامی طور پر تیار کردہ 3.5 لاکھ پودے نمائش کیلئے لگائے گئے ہیں جو 70 سے زائد اقسام کی نمائندگی کرتے ہیں اور تقریباً 1.2 کروڑ پھولوں پر مشتمل ہیں ۔ یہ موضوعی باغ 100 کنال رقبے پر پھیلا ہوا ہے جسے محکمہ فلوری کلچر ، پارکس اینڈ گارڈنز نے خزاں کی ایک بڑی کشش کے طور پر تیار کیا ہے جو کشمیر کے منظر نامے میں زرد ، سرخ ، گلابی اور جامنی رنگوں کے شاندار سائے بکھیر رہا ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغِ گُلِ داؤد گذشتہ سال اس مقصد سے متعارف کرایا گیا تھا کہ کشمیر میں ہر نئے موسم کے آغاز کو منفرد پھولوں کی کشش سے نشان زد کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ’’ یہ سرینگر میں باغِ گُلِ داؤد میں پھول کھلنے کا دوسرا سال ہے ۔ یہ باغ گذشتہ سال شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد ہمارے سیاحتی موسم کے آغاز اور سرینگر میں سال کے اختتام کو نشان زد کرنا تھا ۔ یہ دونوں باغات سرینگر کیلئے خاص اور منفرد ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ ہم اپنے سیاحتی موسم کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ سال کے آغاز میں بہت سے لوگ ٹیولپ گارڈن کا دورہ کرتے ہیں ۔ لیکن خزاں کے موسم میں ہم نے لوگوں کو دکھانے کیلئے کچھ خاص چیز شامل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اسی لئے یہ گُلِ داؤدی ( کرائسینتھیمم ) کا باغ محکمہ گُلِ کاری نے تیار کیا ہے ۔ ‘‘
گذشتہ سال سے کی گئی بہتریوں کی تعریف کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر باغ کی ترقی میں فرق دیکھا ہے اور اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ ایک منفرد کشش کے طور پر ترقی کرتا رہے گا ۔ انہوں نے کہا ’’ میں نے گذشتہ سال اور اس سال کے درمیان فرق دیکھا ہے ۔ ہم اسے اسی طرح ترقی دیتے رہیں گے ۔ ‘‘ مقامی پیداوار اور پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ٹیو لپ باغ کے برعکس ، جس کیلئے ملک سے باہر سے بلبز درکار ہوتے ہیں ، کرائسینتھیمم باغ مقامی طور پر تیار کردہ پودوں کے مواد پر انحصار کرتا ہے جسے جموں و کشمیر کے اندر پھیلایا اور بڑھایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ پودوں کے مواد کی بڑی مقدار مقامی ہے اور اسے چلانے کیلئے کچھ مقدار بلبز ملک سے باہر سے منگوائے جاتے ہیں ۔ اس باغ کے پودوں کا زیادہ تر مواد ہمارا اپنا ہے ۔ ہم اسے پھیلاتے اور بڑھاتے ہیں ۔ ہم ہر سال اس باغ میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ کو آنے والے برسوں میں مزید ترقی دی جائے گی جہاں ہر سال نئی خصوصیات اور کششیں متعارف کروائی جائیں گی تا کہ عوام کی دلچسپی برقرار رہے اور اس کی دلکشی میں اضافہ ہو ۔ وزیر اعلیٰ نے سرینگر ، ملحقہ علاقوں اور پورے جموں و کشمیر کے لوگوں کو باغ دیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پھولوں کی یہ نمائش خزاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے اور فوٹو گرافی کے ذریعے اس تجربے کو محفوظ رکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ اس موقع پر میں سیاحوں اور مقامی لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوبصورتی سے فائدہ اٹھائیں ۔ کچھ تصاویر لیں اور انہیں یاد گار کے طور پر اپنے ساتھ لے جائیں ۔ ‘‘ باغ کی ترقی مقامی پھولوں کی کاشت کاری کی صلاحیت کو بھی اجاگر کرتی ہے جو مخصوص سیاحتی تجربات تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی طور پر پیدا ہونے والے پودوں کی افزائش کو فروغ دیتی ہے ۔ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وزیر برائے زراعت پیداوار جاوید احمد ڈار ، وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، ایم ایل اے حبہ کدل شمیم فردوس ، ایم ایل اے حضرت بل سلمان ساگر ، ایم ایل اے لال چوک شیخ احسن احمد ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، کمشنر سیکرٹری فلوریکلچر ، پارکس اینڈ گارڈنز اور ڈائریکٹر فلوریکلچر کشمیر سمیت دیگر افسران اور اہلکار موجود تھے ۔










