چیف سیکرٹری ڈولو نے فلاحی اسکیموں کی مکمل رسائی کے عزم کا اعادہ کیا

چیف سیکرٹری ڈولو نے فلاحی اسکیموں کی مکمل رسائی کے عزم کا اعادہ کیا

سیکرٹری MoSJ&E نے جموں و کشمیر کی بنیادی سطح پر فلاحی رسائی اور منشیات کے خلاف حکومت کے جامع انداز کی تعریف کی

سرینگر//مرکزی سیکرٹری وزارت سماجی انصاف و بااختیاری سدھانش پنت نے آج جموں و کشمیر کی سماجی فلاحی اسکیموں کے تحت وسیع بنیادی سطح پر رسائی اور منشیات کے استعمال کے خلاف مربوط ، حکومت کے جامع انداز کی تعریف کی اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی کوششوں کو ایک قابلِ تعریف ماڈل قرار دیا جسے پورے ملک میں دوہرایا جا سکتا ہے ۔ مسٹر پنت نے یہ مشاہدات جموں و کشمیر میں مختلف سماجی فلاحی اسکیموں اور پروگراموں کے نفاذ کے جامع جائیزے کے دوران کئے جس کی مشترکہ صدارت انہوں نے اور چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے کی ۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ، کمشنر سیکرٹری ایجوکیشن ، سیکرٹری سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ ، سیکرٹری ہیلتھ ، ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفئر کشمیر ، ڈائریکٹر سوشل ویلفئر جموں ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سائیکاٹری گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر ، سیکرٹری ایس سی /ایس ٹی /او بی سی بورڈ کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی ۔ مسٹر پنت نے یو ٹی انتظامیہ کی فلاحی مداخلتوں کو گراؤنڈ لیول تک پہنچانے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں اور پنچائتوں میں کی گئی اس رسائی سے جامع فلاحی ترسیل کیلئے مربوط عزم جھلکتا ہے ۔ انہوں نے خاص طور پر جموں و کشمیر کی منشیات کے خطرے کے خلاف مربوط مہم کی تعریف کی اور کہا کہ اسے پورے ملک میں سراہا گیا ہے اور یہ دوسرے علاقوں کیلئے ایک کامیاب ماڈل بن سکتی ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے حکومت کے جامع ترقی ، سماجی انصاف اور کمیونٹی بااختیار بنانے کے غیر متزلزل عزم کی دوبارہ تصدیق کی ۔ انہوں نے زور دیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ ( یو ٹی ) انتظامیہ تمام اہل اور مستحق مستفیدین ، بالخصوص معاشرے کے پسماندہ اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والوں میں فلاحی اسکیموں کے فوائد کو مکمل طور پر پہنچانے کیلئے پرعزم ہے ۔ مزید براں چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر میں مختلف مستفید گروپوں کے آبادیاتی پروفائل ، ان کی ترقی کیلئے دستیاب فلاحی اقدامات اور ان کے حقوق کے تحفظ اور مظالم ، امتیاز اور ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے قائم کردہ قانونی ، ادارہ جاتی اور ریگرلیٹری حفاظتی تدابیر پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے ان مداخلتوں کے فوائد ہر اہل مستفید تک پہنچانے کے لئے مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا ۔