بیروت/ایجنسیز// لبنانی صدارت نے اعلان کیا کہ لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی طرف سے ایک ٹیلی فون کال موصول کی اور حالیہ پیشرفت کی روشنی میں ان کے ساتھ لبنان اور علاقے کی عمومی صورتحال کا جائزہ لیا۔صدارت نے “ایکس” پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس بات چیت میں جنوبی دیہاتوں اور قصبوں پر مسلسل اسرائیلی جارحیت کی روشنی میں جنوب کی صورتِ حال پر بھی بات کی گئی۔بیان میں اشارہ کیا گیا کہ صدر جوزف عون نے وزیر روبیو سے ان جارحانہ کارروائیوں کو روکنے کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے، فریم ورک معاہدے کے نکات کی پابندی کرنے، بلڈوزنگ کے کاموں کو روکنے اور کسانوں کو اپنے کھیتوں تک پہنچنے کے قابل بنانے اور ان کو نقصان نہ پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ بات چیت کے دوران صدر جوزف عون نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے کہا کہ فوج اور سکیورٹی فورسز مسلح مظاہروں کو روکنے، اسلحہ و بارود ضبط کرنے اور سمگلنگ کا مقابلہ کرنے سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد میں اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں درج کیے گئے اقدامات اسی سیاق و سباق میں سامنے آئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ عدالتی ادارے ان تمام فائلوں کی پیروی کر رہے ہیں جو انہیں بھیجی جاتی ہیں اور جرم کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ قوانین بغیر کسی مراعات کے نافذ کیے جائیں گے۔










