نئی دہلی//ایجنسیز//سپریم کورٹ نے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کے دہلی پولیس کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر جمعرات کو مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزاروں نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی حیثیت سے ختم کرنے کے بعد مظاہرین کے لیے متبادل مقام بھی واضح طور پر مقرر نہیں کیا گیا۔ جنتر منتر دہلی میں عوامی احتجاج اور سیاسی مظاہروں کا ایک معروف مقام رہا ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، سماجی کارکنوں اور عوامی تحریکوں نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔ اس مقام کو 1993 میں احتجاج کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کے پس منظر میں اس مقام کی حیثیت پر تنازع پیدا ہوا۔ عدالت میں سماعت کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا اور آیا اس کے لیے انتظامی سطح پر مقام کی موزونیت کا جائزہ لیا گیا تھا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے سابقہ زبانی مشاہدات کی بنیاد پر نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اس معاملے میں مرکز اور دہلی پولیس سے اپنا مؤقف واضح کرنے کو کہا ہے۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ میں بھی جنتر منتر کی بندش اور متبادل احتجاجی مقام مقرر نہ کیے جانے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ 12 اکتوبر کو عدالت نے اس درخواست پر فوری سماعت سے گریز کیا تھا اور نشاندہی کی تھی کہ احتجاج سے متعلق معاملات سپریم کورٹ میں زیرِ غور ہیں۔ اس دوران دہلی کے مختلف علاقوں میں انتخابی فہرستوں اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہروں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ایک طرف پولیس کو ٹریفک، امن و امان اور عوامی سہولت برقرار رکھنے کی ذمہ داری ادا کرنی ہوتی ہے، تو دوسری طرف شہریوں کے پُرامن اجتماع اور احتجاج کے حق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ عدالت کے سامنے اب بنیادی سوال یہ ہے کہ احتجاج کے مقام اور طریقہ کار سے متعلق انتظامی پابندیاں کس حد تک عائد کی جاسکتی ہیں اور کیا مظاہرین کے لیے قابلِ عمل متبادل فراہم کرنا ضروری ہے۔










