پاکستان کی کسی بھی دہشت گردانہ حرکت کا کرارا جواب دیا جائیگا:راجناتھ

نئی دہلی/یو این آئی// وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے دہشت گردی کو بالکل برداشت نہ کرنے کی حکومت کی پالیسی پر ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے ہونے والی کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا ہندوستان اور زیادہ سخت جواب دے گا۔ راجناتھ سنگھ نے جمعرات کے روز یہاں ایک نجی میڈیا ادارے کے پروگرام میں کہا کہ آپریشن سندور، بالاکوٹ فضائی حملے اور سرجیکل اسٹرائیک ہندوستان کی دہشت گردی سے نمٹنے کی پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کی علامت ہیں۔ ہندوستان اب صرف سفارتی مخالفت تک محدود نہیں ہے ، بلکہ دہشت گردی کے سرچشمے تک پہنچ کر کارروائی کرنے کیلئے تیار ہے ۔وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان کی ثقافت بات چیت، باہمی تعاون اور پرامن طریقے سے تنازعات کو سلجھانے میں یقین رکھتی ہے ۔ لیکن امن کی اس پالیسی کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 کے بعد سے دہشت گردوں کی سرگرمی کی مدت گھٹ کر ایک سال سے بھی کم رہ گئی ہے اور سکیورٹی فورسز ہتھیار اٹھانے کے ایک سال کے اندر ہی انہیں ہلاک کر رہی ہیں۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک میں امن برقرار رکھنے کیلئے طاقت اور صلاحیت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان امن چاہتا ہے ، لیکن ضرورت پڑنے پر جنگ کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے ۔ ملک کی خودمختاری، سالمیت اور قومی مفادات کا تحفظ کرنا حکومت کا ہدف ہے ۔ بدلتے ہوئے سکیورٹی حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب پروپیگنڈا، بدامنی پھیلانے ، کام کاج میں خلل ڈالنے ، فریب دینے اور تباہی جیسی پانچ طرح کی چنوتی سامنے آ رہی ہیں۔ دہشت گردی اب منظم گینگ تک محدود نہیں ہے ۔ خودکش حملہ آور کے طور پر اکیلے حملہ کرنے والے اور پیشہ ورانہ طریقے سے کام کرنے والے دہشت گردوں سے نمٹنا بھی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے چیلنج بن گیا ہے ۔مسٹر سنگھ نے مسافر طیارے کو حادثہ کا شکار کرنے کی مبینہ کوشش اور بڑے دہشت گردانہ حملے کو روکنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے والے کی کیپٹن سمت مچھار کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہوشیار اور بہادر شہری بھی دہشت گردانہ سازش کو ناکام بنا سکتا ہے ۔ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ بیدار شہریوں کی شراکت داری بھی ضروری ہے ۔ دفاعی تیاریوں پر انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو روایتی فوجی طاقت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور کم لاگت والے ہتھیاروں کا بھی استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے لیے درست نشانہ لگانے والے ہتھیار، ڈرون، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور انسانی انٹیلی جنس کو ایک ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے ۔