چیف سیکرٹری نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ایگری سٹیک کے تحت اہل کسانوںکی صد فیصد کوریج کی تصدیق کرنے کی ہدایت دِی

چیف سیکرٹری نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ایگری سٹیک کے تحت اہل کسانوںکی صد فیصد کوریج کی تصدیق کرنے کی ہدایت دِی

جموںوکشمیر میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن میں ضلع وار پیش رفت کا جائزہ لیا

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے جموں و کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور ایگری سٹیک کی عمل آوری کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک جامع میٹنگ کی صدارت کی ۔میٹنگ میں ضلع وار فارمر آئی ڈیز بنانے، یونیک لینڈ پارسل آئیڈینٹی فکیشن نمبرز جاری کرنے، بھونقشہ کے ذریعے کیڈسٹرل نقشوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور انضمام نیز ڈیجیٹلائزڈ لینڈ ریکارڈ کو آر بی آئی کے یونیفائیڈ لینڈنگ انٹرفیس (یو ایل آئی) کے ساتھ ضم کرنے کی تجویز پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ خزانہ کے علاوہ سیکرٹری ریونیو،دونوں صوبوں کے صوبائی کمشنران، ضلع ترقیاتیکمشنروں ، منیجنگ ڈائریکٹر ایگری سٹیک، ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈز، آر بی آئی،بی آئی ایس اے جی ۔ این اور این آئی سی کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے ہر جزو کا ضلع وار تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنروں سے تاخیر کی وجوہات اور مقررہ اہداف و حاصل شدہ نتائج کے درمیان فرق کے بارے میں دریافت کیا۔اُنہوں نے ضلعی اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیںکہ کوئی بھی اہل کسان ایگری سٹیک یا فارمر آئی ڈی رجسٹریشن سے محروم نہ رہے اور مناسب تصدیق کے بعد اس سلسلے میں سرٹیفکیٹ بھی پیش کیے جائیں۔چیف سیکرٹری نے ضلع ترقیاتیکمشنروں کو یہ بھی ہدایت دی کہ جہاں غیر ضروری تاخیر پائی جائے وہاں ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ اِس کے علاوہ پیش رفت اور کام کے معیار کی نگرانی کے لئے باقاعدگی سے فیلڈ اِنسپکشن کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ اُنہوں نے متعلقہ دیگر افسران کو بھی باقاعدہ فیلڈ معائینوںکے لئے تعینات کرنے اور ہفتہ وار پیش رفت رپورٹس پیش کرنے پر زور دیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹر فائنانس شیلندر کمار نے دیہات میں موجود کسانوں کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہدف شدہ آبادی کی واضح اکثریت ہیں جبکہ غیر حاضر اَفراد کے استثنائی معاملات کو بعد میں دیکھا جا سکتا ہے۔اُنہوں نے مستثنیٰ معاملات کو عمومی اصول کا درجہ دینے سے خبردار کیا اور فیلڈ ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر ایگری سٹیک کا کام مکمل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس نے ضلع ترقیاتیکمشنروں سے مختلف حالات کے لئے مخصوص عملی رہنما اصول مرتب کرنے کو بھی کہا جن کا فیلڈ عملے کو سامنا ہوتا ہے تاکہ طریقہ کار سے متعلق مسائل کام میں تاخیر کی وجہ نہ بنیں۔اِس موقعہ پر سیکرٹری ریونیو کمار راجیو رنجن نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کی جانب سے اُٹھائے گئے مسائل کے فوری حل پیش کیا۔ اُنہوں نے میٹنگ کو جانکاری دِی کہ جموںوکشمیر نے اَپنے بنیادی اراضی انتظامی یونٹوں میں صد فیصد ڈیجیٹلائزیشن کا ہدف حاصل کیا ہے جس میں تمام 20 اَضلاع، 207 تحصیلیں اور 6,818 دیہات شامل ہیں۔مجموعی طور پر 68,62,596 اراضی پارسلز (خسرہ جات) کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے ۔تمام 20 اَضلاع میں 6,47,274 انتقالات کا زیر اِلتوأ بیک لاگ بھی شامل کیا گیا ہے اور اَب کوئی زیر اِلتوا ٔبیک لاگ باقی نہیں ہے۔مزید بتایا گیا کہ محکمہ کو مجموعی طور پر 14,48,748 شکایات موصول ہوئیںجن میں سے 14,38,571 غیر نیم عدالتی نوعیت کی تھیں۔ ان میں سے 14,27,576 غیر نیم عدالتی شکایات کا اَزالہ کیا جا چکا ہے۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ 6,818 دیہات موجود 71,04,737 خسرہ جات کی بنیاد کے مقابلے میں ایگری سٹیک کے لئے ڈیٹا انٹری میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اَب تک 65,77,944 خسرہ جات جمع کئے جا چکے ہیں، 58,17,502 کی تصدیق ہو چکی ہے اور 57,30,681 کو منظوری دی جا چکی ہے جو مجموعی بنیاد کا 80.7 فیصد بنتا ہے۔صوبہ جموں میں 3,750 میں سے 2,770 دیہات کی مکمل منظوری ہو چکی ہے جبکہ خسرہ منظوری کی مجموعی شرح 80.8 فیصد ہے۔ اسی طرح صوبہ کشمیر میں 3,068 میں سے 1,945 دیہات کی مکمل منظوری ہو چکی ہے اور خسرہ منظوری کی مجموعی شرح 80.5 فیصد ہے۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ اَب تک 1,663 دیہات میں 1,21,472 فارمر آئی ڈیز تیار کی جا چکی ہیں۔ میں 836 دیہاتوں کے لئے 70,979 فارمر آئی ڈیز تیار کئے گئے جبکہ صوبہ جموں میں 827 دیہاتوں کے لئے 52,751 فارمر آئی ڈیز تیار کئے گئے۔میٹنگ میں بھونقشہ کے نفاذ اور کیڈسٹرل نقشوں کو ڈیجیٹلائزڈ اراضی ریکارڈ کے ساتھ مربوط کرنے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مقررہ چھ مراحل کے ورک فلو کے تحت اس عمل میں شجرہ/مسوی نقشوں کی فہرست سازی اور جمع آوری، جیو ریفرینسنگ، خسرہ وار ذیلی تقسیم کے ذریعے ذیلی نقشوں کی تیاری، ٹوپولوجی اور حدود کی جانچ، جمعبندی/ریکارڈ آف رائٹس کے ساتھ انضمام اور پٹواریوں کے ذریعے فیلڈ ویلیڈیشن شامل ہے۔
دیہات کے کل6,818 نقشوں میں سے 6,468 نقشے بی آئی ایس اے جی ۔این کے حوالے کئے جا چکے ہیں جن میں سے 6,049 واپس موصول ہو چکے ہیں۔ مزید 425 نقشوں کی جیو ریفرینسنگ زیر اِلتوا ٔہے جبکہ 5,754 نقشوں کے لئے ایٹریبیوٹ ٹیبلز مکمل کئے گئے ہیں۔میٹنگ کو جموں و کشمیر کے ڈیجیٹلائزڈ لینڈ ریکارڈ کو خصوصی اے پی آئیز کے ذریعے آر بی آئی کے یونیفائیڈ لینڈنگ اِنٹرفیس (یوایل آئی) کے ساتھ مربوط کرنے کی مجوزہ تجویز سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس انضمام کا مقصد زرعی قرضوں کی فراہمی کے لئے متعلقہ اراضی اور زرعی معلومات تک محفوظ رسائی کو آسان بنانا ہے جس میں زمین کے مالک اور اراضی پارسل کی تفصیلات، زرعی پیرامیٹرز، رہن کی تفصیلات، فصلوں کی معلومات اور موجودہ قرضوں کی نشاندہی شامل ہوگی۔چیف سیکرٹری نے تمام متعلقہ ایجنسیوں کو مقررہ مدت کے مطابق کام کرنے اور ذمہ داریاں واضح طور پر متعین کرنے کی ہدایت دی۔ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی گئی کہ فارمر آئی ڈی بننے کے ایک ماہ کے اندر آر اوآر/جمعبندی کی لاکنگ مکمل کی جائے، تمام بکٹیڈ دیہات میں فارمر آئی ڈیز کی تیاری مکمل کی جائے اور دو ماہ کے اندر غیر دعویٰ شدہ بکٹز اور بین اضلاع اراضی پارسلز سے متعلق معاملات کو حل کیا جائے۔چیف سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی یہ مشق صرف ڈیٹا تیار کرنے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کا نتیجہ درست، اَپ ڈیٹ اور فیلڈ میں تصدیق شدہ لینڈ ریکارڈ کی صورت میں سامنے آنا چاہیے تاکہ مستقبل میں شہری خدمات کی فراہمی تیز ہو، اراضی انتظامیہ میں شفافیت آئے اور تمام کسانوں کے لئے ادارہ جاتی زرعی قرضوں تک رسائی آسان ہو۔