کٹرا بانہال ریل سیکشن پر وندے بھارت

کٹرا بانہال ریل سیکشن پر وندے بھارت

100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی/ریل حکام

سرینگر//یواین ایس / کٹرا بانہال ریل سیکشن پر ٹرینوں کی زیادہ سے زیادہ مجاز رفتار 2 اکتوبر سے بڑھا کر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی جائے گی۔ یہ فیصلہ ادھم پور سرینگر بارہمولہ ریل لنک کے تحت آنے والے کٹرا بانہال سیکشن کے لیے شمالی ریلوے کی جانب سے جاری حکم نامے کے بعد کیا گیا ہے۔شمالی ریلوے کے مطابق الیکٹریفائیڈ سنگل لائن والے اس سیکشن پر رفتار کی نئی حد 2 اکتوبر 2026 کو رات 12 بجے سے نافذ ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد اس روٹ پر چلنے والی وندے بھارت ٹرینیں مخصوص آپریشنل شرائط کی تکمیل کے ساتھ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکیں گی۔شمالی ریلوے کے سینئر ڈویڑنل آپریشنز منیجر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ تمام شرائط اور ضوابط کی تکمیل کے بعد رفتار میں اضافہ نافذ کیا جائے گا۔حکام کے مطابق رفتار بڑھانے کا فیصلہ شمالی ریلوے کے پرنسپل چیف انجینئر کی جانب سے کٹرا بانہال سیکشن کے حالیہ دورے کے بعد کیا گیا۔ اس سے قبل ریلوے سیفٹی کمشنر نے بھی اس سیکشن کا معائنہ کرکے رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھانے کی سفارش کی تھی۔111 کلومیٹر طویل کٹرا بانہال سیکشن جموں ڈویڑن کے تحت نئے براڈ گیج ریل لنک کا اہم حصہ ہے۔ اس سے قبل شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا سے سنگلدان تک ٹرینوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 85 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ سنگلدان سے بانہال تک رفتار کی حد 75 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر تھی۔19 اگست کو مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے ریلوے سیفٹی کمشنر کی سفارش کے بعد کٹرا بانہال سیکشن پر ٹرینوں کی مجاز رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کرنے کی منظوری دی تھی۔اس سے قبل 7 اگست کو کٹرا بانہال سیکشن کا ریلوے سیفٹی کمشنر، ناردرن سرکل، دنیش چند دیشوال نے معائنہ کیا تھا۔ معائنے کے دوران سیکشن کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرینیں چلانے کے لیے موزوں قرار دیا گیا تھا۔ریلوے حکام کے مطابق سی آر ایس کے معائنے سے قبل آوسیلیشن مانیٹرنگ سسٹم ٹرین کے ذریعے بھی ٹریک کا تجربہ کیا گیا تھا، جس میں ٹرین نے 110 سے 115 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹریک کی جانچ کی تھی۔رفتار میں اضافے سے کٹرا اور کشمیر کے درمیان ریل رابطے میں سفر کے وقت کو کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے اور اس سے خطے میں تیز رفتار ریل سروس کے آپریشن کو مزید سہولت حاصل ہوگی۔