کنڈی ریسونگ سٹیشن کی تعمیر بھی جاری ، قلم آباد ہسپتال کیلئے مخصوص11کے وِی فیڈر پہلے ہی تعمیر کیا جاچکا ہے
سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جن کے پاس محکمہ بجلی کا قلمدان بھی ہے ، نے ایوان کو بتایا کہ آڈورہ میں ریسونگ سٹیشن کی توسیع کا کام 95 فیصد مکمل ہو چکا ہے جبکہ ہندوارہ کے کنڈی میں 6.3 ایم وِی اے صلاحیت کے نئے ریسونگ سٹیشن کی تعمیر بھی جاری ہے۔وزیراعلیٰ نے جاری خزاں سیشن کے وقفہ سوالات کے دوران رُکن اسمبلی خورشید احمد شیخ کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آڈورہ ریسونگ سٹیشن کی توسیع کا کام یو ٹی کیپکس کے تحت انجام دیا جا رہا ہے جس میں 10 ایم وِی اے پاور ٹرانسفارمر کی تنصیب اہم زیرِ اِلتوا ٔکام ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آڈورہ کے لئے درکار ٹرانسفارمر سمیت مجموعی طور پر 32 پاور ٹرانسفارمروںکی خریداری کا عمل جاری ہے۔ اِبتدائی ٹینڈر میں مناسب ردِّعمل نہ ملنے کے باعث ٹینڈر کا عمل تاخیر کا شکار ہواجسے بعد میں توسیع دئیے جانے کے باوجود منسوخ کیاگیا۔ اِس کے بعد جے اینڈ کے ٹینڈرز پورٹل پر نیا ٹینڈر جاری کیا گیا جس کی مالی بولیاں 11 ؍ستمبر 2026 ء کو کھولی گئیں۔وزیراعلیٰ نے کنڈی ریسونگ سٹیشن کے حوالے سے کہا کہ ہندوارہ کے کنڈی میں 6.3 ایم وِی اے یسونگ سٹیشن کی تعمیر جاری ہے۔ اس سے متعلق سول ورکس، ٹرانسمیشن لائن کے کام اور بجلی کے دیگرکام تکمیل اور ٹینڈرنگ کے مختلف مراحل میں ہیں۔اُنہوں نے قلم آباد ہسپتال کے لئے مخصوص فیڈر کی فراہمی کے بارے میں ایوان کو بتایا کہ ہسپتال کے لئے مخصوص 11 کے وی کی تعمیر 2024-25 کے دوران کی گئی تھی اوریہ کام مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم، آڈورہ ریسونگ سٹیشن پر اس فیڈر کے لئے الگ وی سی بی پینل فی الحال دستیاب نہیں ہے۔ چنانچہ مخصوص فیڈر کو اس وقت لچ فیڈر کے ذریعے چارج اورآپریٹ کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے منصوبوں کی مالی اور عملی پیش رفت کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ آڈورہ ریسونگ سٹیشن کی توسیع کی تخمینی لاگت 133.28 لاکھ روپے ہے۔ اس کے مقابلے میں 2025-26 کے دوران 76.50 لاکھ روپے جاری کئے گئے جبکہ اسی برس 49.52 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ 2026-27 کے دوران مزید 2.50 لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ منصوبے پر عملی کام کی پیش رفت 95 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ہندوارہ کے کنڈی میں ریسونگ سٹیشن کی تعمیر کی تخمینی لاگت 393.39 لاکھ روپے ہے۔ اس کے مقابلے میں 2025-26 کے دوران 20 لاکھ روپے اور 2026-27 کے دوران 25 لاکھ روپے جاری کئے گئے جبکہ 2026-27 کے دوران 21.50 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ اس منصوبے میں 40 فیصد طبعی پیش رفت حاصل ہو چکی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دونوں منصوبوں پر کام جاری ہے اور باقی ماندہ کاموں کی تکمیل جاری خریداری، ٹینڈرنگ اور متعلقہ عملی کارروائی کے عمل پر منحصر ہے۔










