براڈکاسٹر بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق، منگل کو فرانس بھر میں کئی ہائی اسکولوں کو بندکر دیا گیا جب کہ کچھ طلبہ اور سکیورٹی فورسیزکے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔اطلاعات کے مطابق پیرس، سینٹ-ڈینس، گرینوبل اور للی کے ہائی اسکول صبح کے وقت متاثر ہونے والوں میں شامل تھے۔پیرس کی تعلیمی اتھارٹی نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ دارالحکومت کے۹۰؍ ہائی اسکولوں میں سے تقریباً۱۰؍ بلاک کرنے کی کوششوں سے متاثر ہوئے۔
دریں اثنا، الپس-میری ٹائمز ڈیپارٹمنٹ کے سب سے بڑے مڈل اور ہائی اسکول کمپلیکس پارک-امپیریل میں کشیدگی بڑھ گئی، جہاں تقریباً۳۰۰۰؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔جب ہائی اسکول کے طلبہ نے اسکول کے دروازے کو بلاک کرنے کی کوشش کی اور الیکٹرک سائیکلوں کو آگ لگا دی، تو پولیس اور فائر فائٹرز نے مداخلت کی۔اس مداخلت کے نتیجے میں طلبہ کے ایک بڑے گروپ اور قانون نافذ کرنے والے افسران کے درمیان تعطل پیدا ہو گیا، جن پر مختلف اشیاء پھینکی گئیں۔ بعد میں پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس فائر کی۔
اطلاعات کے مطابق اسکولوں کے باہر سکیورٹی فورسیز کی بڑی تعیناتی متوقع تھی کیونکہ ایل -ڈی – فرانس کے علاقے میں ہائی اسکول کے طلبہ گزشتہ ہفتے کے احتجاجات کے بعد متحرک رہے۔ واضح رہے کہ طلبہ بھری ہوئی کلاسوں اور شیڈول کے ساتھ اساتذہ کی کمی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مزید برآں جیسے ہی طلبہ اپنے اسکولوں کے باہر متحرک ہوئے، نمائندہ عوامی شعبے کی ٹریڈ یونینوں نے بھی۲۰۲۷ء کے بجٹ کے اعلان سے چند روز قبل حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے منگل کو ہڑتال کا اعلان کردیا۔ انہوں نے تقریباً۱۷۰؍ مظاہروں کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جن میں نیس، مارسیل، پیرس اور ٹولوز شامل ہیں، جہاں سکیورٹی فورسیز کی تعیناتی بھی متوقع تھی۔اطلاعات کے مطابق فرانس کے ڈائریکٹوریٹ جنرل فار سول ایوی ایشن نے ایئرلائنز سے بھی کہا کہ وہ پیرس-چارلس-ڈی-گول اور مارسیل- پروونس ہوائی اڈوں پر اپنے فلائٹ کی تعداد کوکم کریں۔










