’ واڈیز ہندی شکھشا سمیتی‘ اور ’ جموںوکشمیر کلچر ل اکیڈمی ‘ کے زیر اہتمام تقریب
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے’ واڈیز ہندی شکھشا سمیتی‘ اور ’ جموںوکشمیر کلچرل اکیڈمی‘ کے اشتراک سے منعقدہ ایک اعزازی تقریب میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباءکو مُبارک باد پیش کی ۔ اُنہوں نے طلبأ ، اَساتذہ، والدین اور منتظمین کو مُبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اعزاز حاصل کرنے والے طلبأ محض کسی مقابلے کے فاتح نہیں بلکہ ہندوستان کی علم، اَدب اور ثقافت کی عظیم روایت کے علمبردار ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے مادری زبان کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ شناخت، یادداشت اور احساس کا وہ وسیلہ ہے جو انسان کی روح سے جڑا ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی لسانی تنوع ہندوستان کی مشترکہ ثقافت کے امتزاج کی عکاسی کرتاہے۔ اُنہوں نے کہاکہ قومی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان اور ہندوستانی زبانوں میں اِبتدائی تعلیم پر خصوصی زور دیا گیا ہے جس سے بچوں کو اعتماد کے ساتھ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔اُنہوںنے مزید کہا کہ مادری زبان جدید ہندوستان کی بنیاد ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ بچوں کو اَپنی ثقافتی وراثت سے مضبوطی سے جوڑے رکھتے ہوئے انہیں عالمی سطح پر آگے بڑھنے کے مواقع بھی فراہم کئے جانے چاہئیں۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حقیقی ترقی تبھی ممکن ہوگی جب سرحدی دیہات کے ہر بچے کو اعتماد کے ساتھ اَپنے خوابوں کو پورا کرنے کا موقعہ ملے۔منوج سِنہا نے کہا،’’جموں و کشمیر کی حقیقی ترقی تب ہوگی جب ہمارے سرحدی دیہات کا کوئی بچہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکے کہ ’میں اپنے خواب پورے کر سکتا ہوں۔‘ میں جانتا ہوں کہ سرحدی علاقوں کے بچے اور نوجوان ہمت اور صلاحیت سے بھرپور ہیں اور وہ پوری قوم کے لیے ایک تحریک ہیں۔‘‘اُنہو ں نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے اَفسران کے سامنے تعلیم اور ٹیکنالوجی،روزگار اور کاروباری سرگرمیاں،کھیل اور ثقافت،مواقع سے مربوط کرنا،رہنمائی اور سرپرستی جیسے پانچ اہم ترجیحات رکھیں۔اُنہوں نے کہا کہ صلاحیت اس وقت حقیقی کامیابی میں تبدیل ہوتی ہے جب وہ دوسروں کے لئے بھی راہ ہموار کرے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دُور دراز دیہات تک سمارٹ کلاس رومز، ڈیجیٹل لائبریریاں اور ہنر مندی کی ترقی کے مواقع پہنچائے جانے چاہئیں۔ ہمیں نوجوانوں کے لئے دستکاری، باغبانی، زراعت، سیاحت اور مقامی صنعتوں میں مواقع پیدا کرنے چاہئیں تاکہ وہ محض ملازمت کے متلاشی نہ رہیں بلکہ ملازمتیں پیدا کرنے والے بھی بنیں۔اُنہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابیں، قلم اور کھیلوں کا سامان ہونا چاہیے اور وہ فن کا بھرپور اِظہار کریں تاکہ ان کی توانائی کو ایک تخلیقی سمت مل سکے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان ملک کے کسی بھی بڑے شہر میں رہنے والے نوجوانوں سے پیچھے نہیں رہنے چاہئیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر دستیاب تمام سکالر شپس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، تربیتی پروگراموں اور مقابلوں کے مواقع سرحدی علاقوں کے نوجوانوں کے لئے بھی دستیاب ہونے چاہئیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تمام اَفسران کو اِس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے نامور پیشہ ور اَفراد سال میں کم از کم دو مرتبہ ان بچوں سے ملاقات کریںیا سری نگر اور جموں میں منعقد ہ پروگراموں کے ذریعے اَپنے تجربات اشتراک کریں اور ان کی رہنمائی کریں۔اُنہوں نے طلبأ پر زور دیا کہ وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید علم کو اَپناتے ہوئے اَپنی زبان اور ثقافت پر فخر کریں۔ اُنہوں نے ہندی زبان کے فروغ کے لئے ’واڈیز ہندی شکھشا سمیتی‘اور اس کے عہدیداران کی کوششوں کو سراہا اور تقریب میں اعزاز حاصل کرنے والے تمام ہونہار اور باصلاحیت طلبأ کے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،’’ہر طالب علم میں ایک خاص صلاحیت ہوتی ہے۔ انہیں اس صلاحیت کو ذمہ داری میں بدلنا چاہیے۔ اَپنی زبان پر فخر کریں، اپنی ثقافت کو سمجھیں اور ساتھ ہی سائنس، ٹیکنالوجی، کاروبار اور جدید علم کے میدان میں نئی بلندیوں کو چھونے کے لئے آگے بڑھیں۔‘‘تقریب میں پرنسپل سیکرٹری محکمہ ثقافت برج موہن شرما، کمشنر سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم رام نواس شرما، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی، ضلع ترقیاتی کمشنرسری نگر اَکشے لابرو، سیکرٹری کلچر ل اکیڈیمی ہر ویندر کور،قومی صدرصدر واڈیزہندی شکھشا سمیتی نصرین علی ندھی، سینئر اَفسران، شکھشاسنسکرتی اتھن نیاس، ویشوک ہندی پریوار اور واڈیز ہندی شکھشا سمیتی کے عہدیداران، ممتازشہری، تعلیمی اِداروں کے سربراہان، اَساتذہ اور آرمی گڈوِل سکولوں و کیندریہ ودھیالیوں کے طالب علموں نے شرکت کی۔










