وزیر اعلیٰ نے وزراء اور قانون سازوں کی تنخواہوں کے بل واپس لئے

وزیر اعلیٰ نے وزراء اور قانون سازوں کی تنخواہوں کے بل واپس لئے

سرینگر//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے وزراء ، وزرائِ مملکت اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کی تجویز پر مشتمل دو بل واپس لے لئے ۔ یہ اقدام قانون ساز اسمبلی میں اہم اپوزیشن جماعت بی جے پی کے اراکین کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد اٹھایا گیا ۔ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہاوس کمیٹی میں کوئی اختلافی نوٹ نہیں تھا جس نے تنخواہوں اور الاؤنسز میں تجویز کردہ اضافے کی سفارش کی تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جبکہ بی جے پی کے اراکین تنخواہوں اور الاؤنسز کا مطالبہ کر رہے تھے ، وہ ایک ساتھ روزانہ مزدوروں کے مسائل کا حوالہ دے کر اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے تھے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ میرے ایم ایل ایز سے پوچھ لو میں اس کے حق میں کبھی نہیں تھا ۔اگرایک بھی رُکن مخالفت کرے تو یہ کبھی منظور نہیں ہو گا میں بل واپس لے رہا ہوں ۔ ‘‘ اس کے بعد ایوان نے اکثریت سے قانون ساز واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا ۔ وزیر اعلیٰ نے قانون ، انصاف اور پارلیمانی امور کے وزیر انچارج کی حیثیت سے جو بل واپس لئے وہ یہ تھے : ’’ جموں و کشمیر وزراء اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں کے ایکٹ 1956 میں ترمیم کا بل ‘‘ ( ایل اے بل نمبر 13 آف 2026 ) ۔ ’’ جموں و کشمیر ریاستی قانون ساز اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے ایکٹ 1960 میں ترمیم کا بل اور اس سے متعلقہ یا ضمنی امور ‘‘ ( ایل اے بل نمبر 14 آف 2026 ) ۔