یہ منصوبہ 2018 میں جے کے آئی ڈی ایف سی فنڈنگ کے تحت دوبارہ شروع کیا گیا تھا ، 70 سے 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے
سرینگر//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ ، جو ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کا قلمدان بھی سنبھالتے ہیں ، نے آج جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ اننت ناگ میں طویل عرصے سے زیر التوا ایس آر ٹی سی کمپلیکس کے منصوبے کو تکمیل کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور بقیہ کاموں کیلئے 12.10 کروڑ روپے کے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ ( ڈی پی آر ) اس وقت تکنیکی جانچ کے مرحلے میں ہیں ۔ خزاں سیشن کے وقفہ سوالات کے دوران ایم ایل اے پیر زادہ محمد سید کے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اننت ناگ میں ایس آر ٹی سی کمپلیکس کی تعمیر 2005 میں لینگویشنگ /جے کے آئی ڈی ایف سی فنڈنگ میکانزم کے تحت دوبارہ بحال کیا گیا تھا جس کی منظور شدہ مختص رقم 11.42 کروڑ روپے تھی ۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی بحالی کے بعد تقریباً 70 تا 75 فیصد کام مکمل ہو چکا تھا جس کے بعد فروری 2020 میں اسے آر اینڈ بی ڈویژن اننت ناگ کے سپرد کر دیا گیا تا کہ مزید کام کیا جا سکے ۔ وزیر اعلیٰ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ باقی ماندہ کاموں کی تکمیل کو آسان بنانے کیلئے حکومت نے گورنمنٹ آرڈر نمبر 168-jk(HUD)of 2024 dated August 14 ,2024 کے ذریعے ایک کمیٹی تشکیل دی تا کہ منصوبے سے متعلق مسائل کا جائیزہ لیا جا سکے اور اس کی تکمیل کیلئے اقدامات کی سفارش کی جا سکے ۔ کمیٹی کی تحقیقات اور سفارشات کی بنیاد پر اس منصوبے کو نظر ثانی شدہ بجٹ تخمینوں برائے 2026-27 میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ باقی ماندہ کاموں کیلئے 12.10 کروڑ روپے کے ڈی پی آر آر اینڈ بی ڈویژن اننت ناگ کے ذریعے تیار کیا گیا ہے اور فی الوقت تکنیکی جانچ کے مراحل میں ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے سوال کے ضمنی پہلو ، تاخیر کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2024 میں قائم کردہ کمیٹی نے اننت ناگ کے مہندی کدل میں واقع اولڈ ایس آر ٹی سی یارڈ پر میونسپل شاپنگ کمپلیکس کی تعمیر میں تاخیر کی وجوہات کا جائیزہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں تاخیر کی وجہ مطلوبہ منظوریوں اور اجازت ناموں کی عدم دستیابی کو قرار دیا ۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو مزید مطلع کیا کہ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق بقیہ کام مکمل کرنے کی تجویز ہے ، بشرطیکہ فنڈز دستیاب ہوں ۔ اسی مناسبت سے 12.10 کروڑ روپے کے ڈی پی آر تیار کئے گئے ہیں اور مطلوبہ فنڈز 2026-27 کے نظر ثانی شدہ تخمینوں ( کیپیکس ) بجٹ میں فراہم کرنے کی تجویز ہے بشرطیکہ مجاز اتھارٹی کی منظوری حاصل ہو جائے ۔










