سنبھل کیس میں ملا افروز کو سپریم کور ٹ سے راحت

سنبھل کیس میں ملا افروز کو سپریم کور ٹ سے راحت

نئی دہلی//ایجنسیز//سنبھل تشدد کیس میں سپریم کورٹ نے مْلّا افروز کی نیشنل سیکورٹی ایکٹ (NSA) کے تحت حراست ختم کردی ہے۔ عدالت نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے مْلّا افروز کی درخواست منظور کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی منسوخ کردیا، جس میں اس کی NSA کے تحت حراست برقرار رکھی گئی تھی۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران یہ سوال اہم رہا کہ کیا پولیس حراست کے دوران سامنے آنے والے کسی اعترافی بیان کو کسی شخص کو NSA کے تحت حراست میں رکھنے کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسا بیان معاملے میں موجود دیگر شواہد کا ایک حصہ ہوسکتا ہے، لیکن صرف اسی بنیاد پر کسی شخص کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کے ساتھ دیگر حالات اور دستیاب شواہد کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔عدالت نے کہا کہ مْلّا افروز کے معاملے میں حراست کا حکم جاری کرتے وقت تمام اہم پہلوؤں پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ کے مطابق پریوینٹو ڈیٹینشن کا اختیار استعمال کرتے وقت قانون میں طے کیے گئے تمام تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔یہ معاملہ 24 نومبر 2024 کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے عدالتی سروے کے دوران ہونے والے تشدد سے متعلق ہے۔