سری نگر//نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے ایوان کو بتایا کہ رواں مالی برس کے دوران محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) اورسری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی مشترکہ کوششوں سے ضلع سری نگر میں مجموعی طور پر 118.06 کلومیٹر سڑکوںپر تارکول بچھانے اوران کی تجدید و مرمت کا کام کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔وزیرموصوف رُکن اسمبلی علی محمد ساگر کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ خانیار حلقے میں خصوصی ترقیاتی ہدایات کے تحت اَب تک 15.43 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تجدید و مرمت کی گئی ہے۔نائب وزیراعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ سری نگر میں محکمہ آر اینڈ بی کے کمیونٹی سینٹروں سے 2025-26 میں 6,83,000 روپے کی سالانہ آمدنی ہوئی جو گزشتہ برس 4,15,000 روپے تھی۔ یہ رقم ضروری مرمتی کاموں پر خرچ کی جا رہی ہے۔اُنہوںنے کہا کہ محکمہ ہائی لیول کمیٹی (ایچ ایل سی) کی نگرانی میں تاریخی گزرگاہوں پر ٹریفک کی روانی میں حائل رُکاوٹوں کو دُور کرنے کے لئے بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔اُنہوں نے ایوان کو بتایا ،’’ سیّد میرک شاہ روڈ (ایس ایم ایس روڈ) کے کل 10.33 کلومیٹرطویل حصے میں سے 2.68 کلومیٹر کو مکمل طور پر کشادہ کیا جا چکا ہے یعنی25.95 فیصد طبعی پیش رفت ہوئی ہے جبکہ متاثرہ 332 تعمیرات میں سے 132 کے لئے تصفیہ اور حصولِ اراضی کا عمل کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ اِسی طرح، خانیار۔زڈی بل ۔ پانڈریتھن روڈکی کل لمبائی 12.45 کلومیٹر ہے۔یہاں موجود314 تعمیرات میں سے 161 کا حصول مکمل ہوچکا ہے اور سڑک کی تقریباً 2 کلومیٹر لمبائی کو کشادہ کیا جا چکا ہے۔ کولی پورہ۔بڈو باغ روڈ پر 435 میٹر سڑک کی کشادگی کے اہم منصوبے میں 231 میٹر حصہ مکمل ہو چکا ہے۔کل 29 تعمیرات میں سے 14 ہٹادیا گیا ہے۔ باقی ماندہ 15 معاملات کوتیزی سے حل کرنے کا عمل جاری ہے ۔اِس منصوبے کی منظوری 450 لاکھ روپے کی تخمینی لاگت پر دی جا چکی ہے۔‘‘نائب وزیر اعلیٰ نے ایوان کو مزید بتایا کہ دیوی آنگن۔حول روڈ کی کشادگی اور اَپ گریڈیشن کی تجویز سی آر آئی ایف سکیم کے تحت 31.25 کروڑ روپے کی تخمینی لاگت سے پیش کی گئی ہے۔اِس تجویز میں زمین کے حصول اور یوٹیلیٹی (بجلی و پانی وغیرہ کی تنصیبات) کی منتقلی کے لئے 30 کروڑ روپے اور تقریباً 1.40 کلومیٹر طویل حصے پر ترقیاتی کاموں کے لئے 1.25 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اِس منصوبے پر سکیم کے تحت مطلوبہ منظوری ملنے کے بعد کام شروع کیا جائے گا۔اُنہوں نے علمگری بازار چوک منصوبے کے بارے میں کہا کہ اِس کام کی منظوری یو ٹی سیکٹر کے تحت 335 لاکھ روپے کی تخمینی لاگت سے دی گئی ہے جس میں پانچ تعمیرات کا حصول اور چوراہے کی نئی ڈیزائننگ شامل ہے۔ چیف اِنجینئر محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) وسطی کشمیر نے اِنتظامی منظوری دِی ہے۔ مالی برس 2025-26 کے دوران 20 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی جبکہ یہ معاملہ فی الحال مزید ضروری کارروائی اور فنڈز کے اجرأ کے لئے اِنتظامی محکمے کی سطح پر زیرِ غور ہے۔اُنہوں نے بژھ پورہ ۔حضرت بل روڈ کے بارے میں ایوان کو بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈِی پی آر) کی اِنتظامی منظوری کا انتظار ہے۔ رُکاوٹ ہٹانے کے جزو کے تحت 34 تعمیرات کے متعلق حصولِ اراضی کے معاملات اُٹھائے گئے ہیں جن میں سے دو تعمیرات کا حصول پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے ۔ رکاوٹ دور کرنے کے لئے 700 لاکھ روپے کی رقم موصول ہوئی ہے جس میں سے 20 لاکھ روپے دو تعمیرات کے حصول کے لئے جار ی کئے جاچکے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ باقی رقم کی دوبارہ توثیق کا عمل زیراِلتوأ ہے جبکہ مزید حصولِ اراضی کا کام مطلوبہ فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہوگا۔نائب وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بابا پورہ۔حبہ کدل روڈ کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔اس راستے کو بڑی حد تک صاف کردیا گیا ہے اور اَب صرف چار تعمیرات کا ہٹایا جانا باقی ہے۔اُنہوں نے حبہ کدل۔گاؤ کدل روڈ کے بارے میںایوان کو بتایا کہ فی الوقت 24تعمیرات کے حصول کا معاملہ زیر اِلتوأ ہے اِس منصوبے کے لئے 21 لاکھ روپے کی رقم دستیاب ہے جبکہ باقی ماندہ تعمیرات کے حصول اور سڑک کو مزید کشادہ کرنے کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے اِضافی فنڈز درکار ہیں۔سریندر کمار چودھری نے فتح کدل سے حبہ کدل بذریعہ چنکرال محلہ روڈ کے بارے میں کہا کہ سڑک کو کشادہ کرنے کے اس حصے میں 176 تعمیرات شامل ہیں جنہیں حاصل کرنے اور ہٹانے کی ضرورت ہے ۔ ان میں سے 13 تعمیرات کو سیکشن 4 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا جاچکا ہے جبکہ 8 تعمیرات ہائی لیول کمیٹی کے ذریعے پہلے ہی حاصل کئے جا چکے ہیں۔ باقی ماندہ تعمیرات کے حصول اور انہیں ہٹانے کا کام مطلوبہ فنڈز کی دستیابی اور اجرأسے مشروط ہوگا۔اُنہوں نے کہا،’’حکومت تسلیم کرتی ہے کہ بعض حصوں میں عدالتی مقدمات، سیکشن 4 کے نوٹیفکیشن کی عدم موجودگی، مقامی خاندانی ملکیتی تنازعات، یا معاوضے کے تعین کے جاری عمل کی وجہ سے تاخیر کا سامنا ہے ۔ ایچ ایل سی کی 264ویں میٹنگ کے فیصلوں کے بعدمحکمہ زمین کے حصول کے تمام زیرِ اِلتوأ دعوئوں کو مؤثر طریقے سے نمٹانے کے لئے پی این سی کے آسان اورمربوط طریقۂ کار عملارہا ہے ۔‘‘نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمہ کلکٹر، لینڈ ایکوزیشن (پی ڈبلیو ڈی) کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ باقی معاوضے کی رقم کی بلا رُکاوٹ تصدیق اور بروقت اجرا کو یقینی بنایا جا سکے جس کا مقصدلوگوںکی مشکلات کو کم کرنا اور سری نگر کے لئے ایک جدید سڑکوں کا نیٹ ورک فراہم کرنا ہے۔اِس ضمن میں رُکن اسمبلی حضرت بل سلمان علی ساگر نے ضمنی سوال بھی اُٹھایا۔










