پتنی ٹاپ کو مرکز کی ’عالمی سطح پر مسابقتی مقام‘ سکیم کے تحت تجویز کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ

پتنی ٹاپ کو مرکز کی ’عالمی سطح پر مسابقتی مقام‘ سکیم کے تحت تجویز کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ

ماسٹر پلان پر نظر ثانی کا عمل شروع کیا گیا ، پی ڈِی اے کے دائرہ اختیار میں ’یکساں بلڈنگ بائی لاز‘2021 پہلے ہی نافذ کئے جاچکے ہیں

سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ پتنی ٹاپ کو مرکزی حکومت نے ابھی تک عالمی معیار کے سیاحتی مقام کا درجہ نہیں دیا ہے، تاہم جموں و کشمیر حکومت نے مرکز کی ’عالمی سطح پر مسابقتی سیاحتی مقام‘سکیم کے تحت غور و خوض کے لئے اس مقام کی تجویز پیش کی ہے۔وزیراعلیٰ نے جاری خزاں سیشن کے وقفہ سوالات کے دوران رُکن اسمبلی چنانی بلونت سنگھ منکوٹیہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس مجوزہ اقدام کے لئے موزوں اَراضی کی نشاندہی کے اِبتدائی سروے کے ساتھ ساتھ شراکت داروںکے ساتھ جامع مشاورتی کانفرنسیں پہلے ہی مکمل کی جا چکی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اس تجویز کے لئے درکار زمینی کوائف اور بنیادی تفصیلات اس وقت جمع کی جا رہی ہیں۔ اَب تک مرکزی حکومت نے مجوزہ منصوبے کے لئے کوئی فنڈز منظور یا جاری نہیں کئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے پی ڈِی اے ماسٹر پلان۔ 2000 کی نظرثانی کے حوالے سے کہا کہ محکمہ سیاحت نے پتنی ٹاپ ڈیولپمنٹ اَتھارٹی سمیت مختلف ترقیاتی اَتھارٹیوں کے لئے ماسٹر پلانوں کی جامع نظر ثانی اور تیاری کا عمل شروع کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس اَقدام کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، جدید بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور دیرپا مقامی ترقی کے مسائل حل کرنا ہے ۔ اس کے علاوہ زمین کے اِستعمال کو بہتر بنانے، عوامی سہولیات میں بہتری اور طویل مدتی ترقی کے لئے ایک واضح روڈ میپ تشکیل دینا ہے۔وزیراعلیٰ نے ایوان کو مطلع کیا ماسٹر پلان کی تیاری کے لئے کسی کنسلٹنسی ایجنسی کی خدمات حاصل کرنے کی خاطرپر’درخواست برائے تجویز‘ جاری کی گئی ہے جسے حکومت کی تشکیل کردہ سٹیئرنگ کمیٹی نے حتمی شکل دی تھی۔اُنہوں نے پہاڑی علاقوں کے تعمیراتی معیارات کے بارے میں کہا کہ ماسٹر پلانوں کی تیاری یا نظرثانی کے دوران ان معیارات کی جہاں ضرورت ہو نظر ثانی کی جائے گی اور اِس عمل میں مقامی جغرافیائی حالات، ارضیاتی اور ساختی تحفظ کے پہلوؤں، ماحولیاتی حساسیت، علاقے کی گنجائش، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور سیاحتی اِمکانات کو مدنظر رکھا جائے گا۔اُنہوں نے پی ڈی اے کی حدودمیںکمرشل عمارتوں کے لئے بی او سی اے کے ضوابط میں مجوزہ ترمیم کے حوالے سے کہا کہ تعمیراتی اصولوں،زوننگ کے قواعد،زمین کے اِستعمال کی درجہ بندی یا منصوبہ بندی کے دیگر پیرامیٹرز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی پر، شراکت داروںکے ساتھ مشاورت اور مناسب جائزے کے بعد رائج قوانین، قواعد اور قابلِ اطلاق منصوبہ بندی و تعمیراتی ضوابط کے مطابق غور کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ پتنی ٹاپ ڈیولپمنٹ اَتھارٹی (پی ڈِی اے) کی حدود میں ’یونیفائیڈ بلڈنگ بائی لاز، 2021‘ کا نفاذ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔اُنہوں نے گزشتہ دوبرس کے تعمیراتی اِجازت ناموں کے کیسوں کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ 2024-25 کے دوران پی ڈِی اے کوتجارتی نوعیت کے چھ مقدمات موصول ہوئے جن میں سے تین کی منظوری دی گئی اور تین مسترد کر دئیے گئے جبکہ کوئی بھی کیس زیرِ التوا نہیں رہا۔ رہائشی زُمرے میں 42 کیس موصول ہوئے جن میں سے 18 منظور اور 24 مسترد ہوئے اور کوئی بھی کیس زیرِ اِلتوا ٔنہیں رہا۔سال2025-26 کے دوران تعمیراتی اِجازت ناموں کے 10 تجارتی کیس موصول ہوئے جن میں سے چار منظور، تین مسترد اور تین زیرِ التوا ٔرہے۔ رہائشی زُمرے میں 60 کیس موصول ہوئے جن میں سے 16 منظور، 41 مسترد اور تین زیرِ اِلتوا ٔرہے۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ ایوان کو مزید آگاہ کیا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق بعد ازاں 14 رہائشی اور دو تجارتی تعمیراتی اِجازت ناموں کے کیس موصول ہوئے ہیں۔