سری نگر//نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے جموں و کشمیر بھر میں بادل پھٹنے اور اچانک سیلاب سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لئے ضروری اقدامات کئے ہیں۔نائب وزیراعلیٰ رُکن اسمبلی شکتی راج پریہار کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب وزیر اعلیٰ کی طرف سے دے رہے تھے۔اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ 2025-26 کے دوران متاثرہ سڑکوں اور واٹر سپلائی سکیموں کو عارضی طور پر بحال کیاگیا ہے جبکہ مستقل بحالی کا کام جاری ہے۔ اِسی طرح 2026-27 کے دوران متاثرہ سڑکیں اور واٹرسپلائی سکیمیں جزوی طور پر بحال کی جا چکی ہیں اور جموں و کشمیر کے تمام متاثرہ اَضلاع میں مستقل بحالی کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔نائب وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ ،متاثرہ اَفراد کو’ سٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈِی آر ایف) ‘کے اصولوں کے تحت مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ بحالی کے مقصد کے لئے کوئی خصوصی پیکیج یا الگ ریلیف پیکیج منظور نہیں کیا گیا ہے۔تاہم، اُنہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اَپنے’ چیف منسٹرز ریلیف فنڈ‘کے تحت ان کنبوں کو اِضافی اِمداد فراہم کی ہے جن کی رہائشی عمارتوں کو متاثرہ علاقوں میں نقصان پہنچا۔اُنہوں نے کہا ،’’کشتواڑ ضلع میں 2025-26 کے دوران ’چشوٹی‘ میں بادل پھٹنے کے واقعے کے بعد 16 متاثرہ کنبوں کو جن کے مکانات کو نقصان پہنچاتھا، فی گھرانہ ایک لاکھ روپے دئیے گئے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ تین مکانات کو فی گھرانہ 25 ہزارروپے دئیے گئے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ سال 2026-27 کے لئے ضلع پونچھ میں 87 مستفیدین کے لئے ’چیف منسٹرز ریلیف فنڈ‘کے تحت 108 لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں جن کے مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔اِسی طرح راجوری ضلع میں مکانات یا ڈھانچے کو پہنچنے ولاے نقصان سے متاثرہ 377 مستحقین کے لئے ’چیف منسٹرز ریلیف فنڈ ‘ کے تحت 281 لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں۔نائب وزیرِ اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بنیادی ڈھانچے کی بروقت بحالی، متاثرہ کنبوں کو جائز اِمداد کی فراہمی اور آفاتِ سماوی سے متاثرہ علاقوں میں مستقل بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔










