سرنکوٹ//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا نے پونچھ ضلع کے سرنکوٹ علاقے میں مغل روڈ کے ساتھ’ وائلڈ لائف ایکو ٹورزم ہٹ‘ کا اِفتتاح کیاجسے محکمہ وائلڈلائف پروٹیکشن نے تقریباً 1.87 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے یو ٹی کیپکس بجٹ کے تحت تعمیرکیا ہے۔اُنہوں نے جموں و کشمیر میں ایکو ٹورزم انفراسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی سہولیات ماحولیاتی طور پر مالا مال علاقوں کے سیاحتی امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ ترقی کاموں کے دوران ماحولیاتی تحفظ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وزیر موصوف نے کہا،’’مغل روڈ بے پناہ قدرتی حسن اور ماحولیاتی اہمیت کی حامل ہے۔ اِس علاقے میں ایکو ٹوراِزم کی سہولیات کی ترقی سے سیاحوں کو فطرت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا اور ساتھ ہی ہماری بھرپور حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں بیداری بھی بڑھے گی ۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ ایکو ٹوراِزم ہٹ مغل روڈ پر سیاحوں کے لئے دستیاب سہولیات میں اِضافہ کرے گی اور خطے میں فطرت پر مبنی سیاحت کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ایسی سہولیات سیاحوں کو علاقے کے قدرتی مقامات کی سیر کرنے کی ترغیب دے سکتی ہیں اور جنگلات، جنگلی حیات اور پہاڑی علاقوں کے نازک ماحولیاتی نظام کی قدر کرنے کا جذبہ بھی پیدا کر سکتی ہیں۔وزیربرائے جنگلات و ماحولیات نے کہا،’’ہمارا مقصد ایسی سیاحت کو فروغ دینا ہے جو فطرت کا احترام کرے اور ہمارے قدرتی ورثے کے تحفظ میں معاون ہو۔ ایکو ٹوراِزم کو ماحولیاتی تحفظ کا سا ساتھ چلنا ضروری ہے تاکہ سیاحت سے متعلق سرگرمیاں بڑھنے کے باوجود ان علاقوں کی ماحولیاتی خصوصیات کو برقرار رکھا جا سکے۔‘‘اُنہوں نے اِس اَقدام کے ممکنہ سماجی و اِقتصادی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایکو ٹوراِزم کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے سیاحت سے متعلق خدمات اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے ذریعے مقامی کمیونٹیوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اُنہوں نے مزیدکہا کہ سیاحوں کی بڑھتی دلچسپی مقامی لوگوں کے ذریعہ معاش کو سہارا دے سکتی ہے اور کمیونٹیوں کو خطے کے قدرتی وسائل کے تحفظ میں حصہ لینے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔جاوید رانا نے اِس بات پر زور دیا کہ ایسی سہولیات کی طویل مدتی کامیابی ان کی مناسب دیکھ ریکھ ، مؤثر اِنتظام اور ذمہ دارانہ استعمال پر منحصر ہوگی۔ اُنہوں نے مسلسل کوششوں پر زور دیا تاکہ ایکو ٹوراِزم کے اقدامات تحفظ کے مقاصد میں بامعنی کردار اَدا کریں اور مقامی آبادی کو دیرپا فوائد فراہم کریں۔اُنہوں نے مزید کہا،’’ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ سیاحت کے فوائد ہمارے ماحولیاتی ترجیحات پر سمجھوتا کیے بغیر مقامی کمیونٹیوںتک پہنچیں۔ ذمہ دارانہ ایکو ٹوراِزم روزگار کے مواقع پیدا کرنے،تحفظ کے بارے میں بیداری کو مضبوط بنانے اور انسان اور فطرت کے درمیان دیرپارشتہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘










