وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا آئی آئی ایم جموں میںجے اینڈ کے جی سی سی سمٹ 2026 کے اِفتتاحی سیشن سے خطاب

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا آئی آئی ایم جموں میںجے اینڈ کے جی سی سی سمٹ 2026 کے اِفتتاحی سیشن سے خطاب

کہا،جموںوکشمیر جی سی سی کمپنیوں کیلئے ایک مسابقتی مرکز بن سکتا ہے

جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صنعتی رہنماؤں پر زور دِیاکہ وہ جموں و کشمیر کو’ گلوبل کیپبلٹی سینٹرز(جی سی سیز)کے لئے ایک ابھرتی ہوئی منزل کے طور پر دیکھیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت سرمایہ کاری کو راغب کرنے، اختراعات کو فروغ دینے اور بامعنی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ایک مسابقتی اور کاروبار دوست ماحول قائم کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے اِنڈین انسٹی چیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) جموں میں منعقدہ جموں و کشمیر جی سی سی سمٹ 2026 کے اِفتتاحی سیشن نئی دہلی سے بذریعہ ورچیول موڈ خطاب کرتے ہوئے کہا،’’ہمیں جموں و کشمیر کو ایسا خطہ بنانا ہے جو مسابقتی ہوجہاں کاروبار کرنا پُرکشش ہو ،جہاں منافع کمایا جا سکے اورجو ملک بھرکے دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں کے ساتھ مقابلہ کرسکے۔‘‘دو روزہ سمٹ جس کا موضوع ’ ترقیاتی ایکو سسٹم کی تعمیر اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے جموںوکشمیرکی جی سی سی صلاحیتوں کو برئوے کار لانا‘ ہے۔اس سیشن میں حکومت، صنعت اور تعلیمی شعبے کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں تاکہ ہندوستان میں تیزی سے وسعت پاتے ہوئے جی سی سی نظام میں جموں و کشمیر کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے اِمکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے ہندوستان میں جی سی سی کی ترقی کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جو کام ابتدا میں کال سینٹروں اور کاروباری عمل کی آؤٹ سورسنگ تک محدود تھا، وہ اَب اختراعات، صلاحیتوں، مہارت اور کاروباری ترقی کے مراکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’ہندوستان میں جی سی سی مراکز کی کہانی ترقی کی کہانی ہے جیسا کہ جموں و کشمیر کی کہانی ہے۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ جی سی سی مراکز میں آنے والی تبدیلی اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح صلاحیتوں اور ویلیو ایڈیشن نئی معاشی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں کے سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حقیقت سے کہکہ اب اس خطے کو جی سی سی سرمایہ کاری کے ممکنہ مرکز کے طور پر زیرِ بحث لایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ یہاں تلاش کئے جانے والے مواقع میں اہم تبدیلی آئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ حیدرآباد، بنگلورو اور چنئی جیسے قائم شدہ جی سی سی مراکز کی ترقی کے راستے پر ہی چلے۔بلکہ وہ ان کے تجربات سے سیکھ سکتا ہے اور ملک کے دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار کر سکتا ہے۔وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے کہا، ’’اس میدان میں دیر سے آنا مایوس کن ضرور ہے لیکن یہ ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتا۔ ہم دوسروں کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں ہر چیز نئے سرے سے ایجاد کرنے کی ضرورت نہیںبلکہ جو کچھ پہلے سے موجود ہے، اسے بہتر انداز میں استعمال کرنا ہے۔‘‘اُنہوں نے نشاندہی کی کہ بڑے شہروں میں کاروبار کرنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے نئے اُبھرتے ہوئے مقامات کے لئے مواقع پیدا کئے ہیں۔اُنہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر اپنی فطری خوبیوں اور فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے کاروباری اداروں کے قیام اور ان کی توسیع کے لئے ایک پُرکشش ماحول فراہم کر سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے ماہر افرادی قوت کی تیاری میں تعلیمی اِداروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے مضبوط نیٹ ورک کا ذِکر کیا جن میں آئی آئی ایم جموں، آئی آئی ٹی جموں، شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی، جموں یونیورسٹی، کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ یہ ادارے باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تیار کر رہے ہیںلیکن اپنے خطے میں روزگار کے محدود مواقع کی وجہ سے انہیں اکثر باہر ملازمتیں تلاش کرنا پڑتی ہیں جن میں جی سی سی کا شعبہ بھی شامل ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جی سی سی مراکز قائم ہونے سے مقامی صلاحیتوں کو خطے میں برقرار رکھنے، معیاری روزگار پیدا کرنے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے ابھرتے ہوئے مواقع سے جوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس سمٹ کی کامیابی کا اندازہ فوری طور پر بڑی تعداد میں جی سی سی مراکز قائم کرنے کے ہدف سے نہیں لگایا جانا چاہیے بلکہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ آیا یہ سیشن دیرپا ترقی کی بنیاد فراہم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ہمیں ایک جی سی سی مرکز کے قیام پر ہی بہت خوشی ہوگی۔ ایک مرکز سے پانچ مراکز قائم ہوں گے، پانچ سے دس اور پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا جائے گا۔‘‘ اُنہوں نے زور دیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ سرمایہ کار جموں و کشمیر میں اس کی کاروباری صلاحیت اور امکانات کی بنیاد پر سرمایہ کاری کریں، نہ کہ ماضی کے مسائل کے لئے محض ہمدردی کی بنا پر۔وزیراعلیٰ نے سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے کاروباری منافع کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کسی بھی مقام پر صرف اسی وقت تک جاری رہ سکتے ہیں جب تک کہ وہ ان کے لئے معاشی طور پر سودمند ہوں۔انہوں نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ قانون ساز اسمبلی سیشن میں’ کاروبار میں آسانی ‘سے متعلق جامع قانون کی منظوری بھی شامل ہے جسے لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری مل چکی ہے اور اب یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد جموں و کشمیر میں کاروبار کرنا آسان بنانا ہے، تاہم اس کا زمینی سطح پر مؤثر نفاذ نہایت اہم ہوگا۔ حکومت اپنے تجربات سے سیکھے گی اور جہاں ضرورت محسوس ہوگی، وہاں مزید بہتری لائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت این اے ایس ایس سی او ایم اور صنعت کے دیگر شراکت داروں مستقل روابط قائم کرنے کی خواہشمند ہے اور کمپنیوں کو خطے کی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کی دعوت دی۔اُنہوں نے جموں و کشمیر کے موسمی حالات اور سڑک، ریل اور فضائی ہوائی رابطوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں کئی فطری فوائد موجود ہیں جنہیں کاروباری اداروں کے لئے نئی جگہوں کے انتخاب کے سلسلے میں ایک مضبوط کشش میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے اُمید ظاہر کی کہ یہ سمٹ جموں و کشمیر اور جی سی سی صنعت کے درمیان طویل مدتی تعلقات کی ابتدا ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نئے علاقوں بشمول جموں و کشمیر کے لئے بھی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔اِفتتاحی سیشن میں چیف سیکرٹری اتل ڈولو،کمشنر سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم رام نواس شرما، سیکرٹری محکمہ محنت و روزگار کمار راجیو رنجن، نیسکام کے صدر راجیش نمبیار،چیئرمین این آئی آئی ٹی راجندر سنگھ پوار اورڈائریکٹر آئی آئی ایم جموں پروفیسر بی ایس سہائے سمیت حکومت، صنعت اور تعلیمی شعبے کے متعدد نمائندوں نے شرکت کی۔تقریباً 45 اداروں، 55 سے زائد صنعتی رہنماؤں اور 300 سے زیادہ مندوبین کی شرکت کے ساتھ جموں و کشمیر جی سی سی سمٹ 2026 کا مقصد پالیسی سازوں، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانا اور جموں و کشمیر کی صلاحیتوں کو سرمایہ کاری، اختراعات، روزگار اور دیرپامعاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے راستوں کی نشاندہی کرنا ہے۔