جنگلات کے حقوق قانون پر عمل درآمد

جنگلات کے حقوق قانون پر عمل درآمد

متعلقہ طبقوں کی سجاد لون سے مداخلت کی اپیل

سرینگر// یو این ایس / نیشنل الائنس آن کمیونٹی فاریسٹ ریسورسز اینڈ مائنر فاریسٹ پروڈیوس (این اے سی ایم) اور جموں و کشمیر کلائمیٹ ایکشن گروپ کے ایک وفد نے ہندوارہ کے رکن اسمبلی سجاد غنی لون سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں جنگلات کے حقوق سے متعلق قانون 2006 پر مو ¿ثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مداخلت کریں۔وفد نے اس سلسلے میں رکن اسمبلی کو ایک یادداشت پیش کی، جس میں جنگلات پر انحصار کرنے والی آبادیوں اور متعلقہ سرکاری افسران میں اس قانون کے بارے میں محدود آگاہی پر تشویش ظاہر کی گئی۔ یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ جنگلات پر انفرادی اور اجتماعی حقوق کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ جنگلات سے حاصل ہونے والی معمولی پیداوار سے متعلق حقوق بھی یقینی بنائے جائیں۔ملاقات کے دوران سجاد غنی لون نے قانون کے تحت فراہم کیے گئے حقوق کے بارے میں عوامی سطح پر بیداری کی کمی پر تشویش ظاہر کی اور وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں گے تاکہ جموں و کشمیر میں قانون پر مو ¿ثر عمل درآمد کو مضبوط بنایا جا سکے۔وفد نے رکن اسمبلی کو پونچھ میں جنگلات کے حقوق سے متعلق قانون پر منعقدہ دو روزہ قومی ورکشاپ کی کارروائی اور اہم نتائج سے بھی آگاہ کیا۔ یہ ورکشاپ جموں و کشمیر کلائمیٹ ایکشن گروپ نے این اے سی ایم کے اشتراک سے منعقد کی تھی، جس کا اختتام 4 اکتوبر کو ہوا۔ اس میں مختلف ریاستوں سے حقوق کے کارکنوں، قانونی ماہرین، ماحولیات کے ماہرین، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور جنگلات پر انحصار کرنے والی برادریوں کے افراد نے شرکت کی۔یادداشت میں خاص طور پر درج فہرست قبائل، جن میں گجر اور بکروال برادریاں شامل ہیں، نیز دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں میں قانون کے بارے میں بیداری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ جنگلات کے قریب رہنے والی کشمیری، چوپان اور درج فہرست قبائل میں شامل نہ ہونے والی آبادیوں، بشمول ڈوگری بولنے والی برادریوں کے مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی۔وفد نے انفرادی جنگلاتی حقوق، اجتماعی جنگلاتی حقوق اور جنگلات سے حاصل ہونے والی معمولی پیداوار سے متعلق حقوق کو تسلیم کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔ وفد کے مطابق، قبائلی امور اور محکمہ جنگلات کے بعض افسران میں بھی اس قانون کے بارے میں مناسب آگاہی کا فقدان ہے۔سجاد غنی لون نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ متاثرہ برادریوں کے خدشات متعلقہ حکام تک پہنچانے میں تعاون کریں گے۔وفد نے جموں و کشمیر حکومت کو قانون پر عمل درآمد بہتر بنانے، جنگلات کے اجتماعی انتظام کو مضبوط کرنے اور جنگلاتی پیداوار سے وابستہ روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے اپنے تجربات اور فنی مہارت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔وفد میں مہاراشٹر، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، اڈیشہ اور مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے نمائندے شامل تھے۔ وفد نے سجاد غنی لون کو مہاراشٹر کے قبائلی اضلاع کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ وہاں جنگلات کے حقوق سے متعلق قانون پر عمل درآمد کا جائزہ لے سکیں۔واضح رہے کہ وفد نے اس قانون سے متعلق مسائل اٹھانے کے لیے منگل کے روز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے بھی ملاقات کی تھی۔