زیادہ سے زیادہ عمر 60 سے بڑھا کر 63 سال کردی گئی
سرینگر/ یو این ایس / لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ نے نمبرداروں، جنہیں لداخ میں گوپا بھی کہا جاتا ہے، کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 60 سال سے بڑھا کر 63 سال کردی ہے۔ اس فیصلے کے بعد تجربہ کار نمبردار مزید تین سال تک اپنے فرائض انجام دے سکیں گے۔یہ فیصلہ آل لداخ گوپا ایسوسی ایشن کی درخواست کے بعد کیا گیا۔ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے 3 اکتوبر کو لوک نواس میں لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ نمبرداروں کے لیے 60 سال کی عمر کی حد ختم کی جائے اور ایسے افراد کو، جو اپنے فرائض انجام دینے کے قابل ہوں اور عوام کا اعتماد رکھتے ہوں، مزید مدت تک خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔جموں و کشمیر لمبرداری ایکٹ 1972 کے تحت حاصل اختیارات اور جموں و کشمیر لمبرداری قواعد 1980 کے رول 16 کے تحت لیفٹیننٹ گورنر نے عمر کی حد میں یہ اضافہ کیا ہے۔ موجودہ قواعد کے مطابق نمبردار کی مدت پانچ سال یا 60 سال کی عمر تک ہوتی تھی، جو بھی پہلے ہو۔ نئی ترمیم کے تحت پانچ سالہ مدت برقرار رہے گی، تاہم زیادہ سے زیادہ عمر کی حد اب 63 سال ہوگی۔انتظامیہ کے مطابق اس فیصلے سے نچلی سطح پر انتظامی امور میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور تجربہ کار نمبرداروں کے مقامی علم اور تجربے سے فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔ خاص طور پر لداخ کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں نئے نمبرداروں کی تعیناتی کے بجائے تجربہ کار افراد کی خدمات جاری رہنے سے عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطہ مزید مو ¿ثر ہوسکتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نمبردار لداخ کے دور دراز اور جغرافیائی طور پر مشکل علاقوں میں انتظامیہ اور عوام کے درمیان ایک اہم رابطے کا کام انجام دیتے ہیں۔ انہیں مقامی روایات، مسائل اور ضروریات کا بہتر علم ہوتا ہے اور وہ سرکاری خدمات اور فلاحی اسکیموں کو لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔واضح رہے کہ لداخ میں نمبرداروں کو گوپا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ افراد مقامی سطح پر انتظامیہ اور عوام کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہیں۔ حکومت کی جانب سے حال ہی میں نمبرداروں کا ماہانہ اعزازیہ بھی 1500 روپے سے بڑھا کر 5000 روپے کیا گیا تھا۔










