سری نگر//وزیربرائے سکولی تعلیم، صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جواب دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ بارہمولہ قصبے میں 24.62 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت والے14 ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ان میں سے کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ دیگر مختلف مراحل میں ہیں۔وزیرموصوفہ رُکن اسمبلی جاوید حسن بیگ کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوںنے ایوان کو بتایا کہ 2,462.67 لاکھ روپے کی کل منصوبہ لاگت کے مقابلے میں مارچ 2026 تک 445.24لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ رواں مالی برس کے دوران، 130.60 لاکھ روپے کی جاری کردہ رقم میں سے 25لاکھ روپے اِستعمال کئے گئے۔اِن 14 کاموں میں سے تین مکمل ہو چکے ہیںجبکہ باقی کام تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔وزیر نے بارہمولہ میں آر اینڈ بی دفتر کے قریب تجویز کردہ کثیر سطحی کار پارکنگ کی سہولیت کے حوالے سے ایوان کو بتایا کہ اِس منصوبے کے لئے اِنتظامی منظوری 10 ؍اکتوبر 2025 ء کو دی گئی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ منصوبے کے آغاز میں تاخیر اس لئے ہوئی کیوں کہ یہ زمین جو پی ڈبلیو ڈِی ( آر اینڈ بی) کی ملکیت تھی ، ابھی تک میونسپل کونسل بارہمولہ کے نام منتقل نہیں کی گئی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ جگہ پر موجود پاپلر کے درخت بھی موجود ہیں جن کی قیمت کا تعین محکمہ جنگلات کی جانب سے کیا جانا ضروری ہے جس کے بعد ان کی نیلامی یا انہیں ہٹانے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ اِس کے علاوہ اس جگہ پر موجود ایک پرانی عمارت کا جائزہ لینے اور اسے ہٹانے یا ٹھکانے لگانے کے لئے مقررہ طریقۂ کار کو مکمل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
سکینہ اِیتو نے کہا کہ تعلیم سے قبل کی ان ضروری اور قانونی کارروائیوں نے منصوبے کے آغاز کو متاثر کیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا،’’مطلوبہ کارروائیاں اَب جاری ہیں اور متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں تاکہ کام جلد از جلد شروع ہو سکے۔‘‘اُنہوں نے بارہمولہ میں داخلے کے تین گیٹس کی تعمیروترقی کے بارے میں ایوان کو بتایا کہ اِنتظامی منظوری آڈر نمبر ڈِی یو ایل بی کے/پی ایل جی/746 آف 2025 بتاریخ 20؍ ستمبر 2025 کے تحت دی گئی۔وزیر نے کہا کہ جانبازپورہ اور کھوجہ باغ میں داخلے کے گیٹس کی تعمیر مقامی رہائشیوں کی جانب سے اُٹھائے گئے کے اعتراضات سے متاثر ہوئی جس کے باعث ان مقامات کو تبدیل کرنا پڑا۔اُنہوں نے کہا،’’کھوجہ باغ میں فی الحال نئی نشاندہی کی گئی جگہ پر کام جاری ہے ۔ خانپورہ میں بی آر او حکام نے اعتراضات اُٹھائے جس کے باعث منظور شدہ ڈرائنگ میں ترمیم اور مقام کی تبدیلی ضروری ہوگئی۔ اس کے بعد بی آر او اور آر اینڈ بی حکام نے 13 اور 21 ؍جون 2026 ء کو مشترکہ دورے کئے جس کے بعد نظرثانی شدہ مقامات تجویز کئے گئے ۔وزیر نے ایوان کومطلع کیا کہ خانپورہ میں نئے مقام پر کام کالم کی سطح تک پہنچ چکا تھا لیکن بی آر او حکام کی جانب سے یہ بتائے جانے کے بعد کام روک دیا گیا کہ اس مقام کا اِنتخاب غیر دانستہ طور پر کیا گیا تھا اور وہاں کام جاری رکھنے کی اِجازت نہیں دی جا سکتی۔اُنہوں نے کہا کہ جانبازپورہ اور خانپورہ میں مناسب متبادل مقامات کی نشاندہی اور حتمی شکل دینے کے لئے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کر کے فوری اَقدامات شروع کئے گئے ہیںتاکہ کام کو مزید کسی غیر ضروری تاخیر کے بغیر شروع اور مکمل کیا جا سکے۔سکینہ اِیتو نے میونسپل کونسل بارہمولہ کی دو منزلہ دفتری عمارت کے حوالے سے ایوان کو بتایا کہ 22 دسمبر 2021 کو جاری کردہ حکم نامہ نمبر ایم سی /بی ایل اے/2021/215۔18 کے تحت اس کی اِنتظامی منظوری دی گئی تھی۔وزیر موصوفہ نے ایوان کو بتایا کہ ’ٹرس‘ کا کام اَب مکمل ہو چکا ہے اور اینٹوں کا کام تقریباً 80 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ متعلقہ تعمیراتی ایجنسی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تعمیر کی رفتار برقرار رکھے اور باقی ماندہ کام جلد از جلد مکمل کرے۔اُنہوں نے ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ سوال میںجن کاموں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اصل میں طے شدہ وقت کے اندر مکمل نہیں ہوئے ہیں۔تاہم، اُنہوں نے ایوان آگاہ کہ تاخیر کی وجہ سائٹ سے متعلق، قانونی، عدالت سے متعلق، سیکورٹی سے متعلق اور بین محکمہ جاتی مسائل ہیں جس نے یا تو عمل درآمد کے آغاز یا تسلسل کو متاثر کیا اور کافی حد تک، ایگزیکیوٹنگ ایجنسی کے فوری کنٹرول سے باہر تھے۔سکینہ اِیتو نے ایوان کو یقین دِلایا کہ متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ زیرِ اِلتوا رسمی کارروائیاں تیز کریں اور تعمیر کی رفتار برقرار رکھیں تاکہ ترقیاتی کام بارہمولہ قصبے کے عوام کی بھلائی کے لئے ترقیاتی کام جلد از جلد مکمل ہوں۔










