پہلگام میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا 75 فیصد کام مکمل اور نظرثانی شدہ منظور ی کا عمل جاری۔وزیر صحت سکینہ اِیتو

صحت خدمات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے صحت اِداروں میں اَفرادی قوت کی صورتحال کی باقاعدگی سے نگرانی کی جارہی ہے۔ سکینہ اِیتو

سری نگر//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو مطلع کیاکہ جموں و کشمیر بھر میںکچھ صحت اداروں میں طبی اور پیرا میڈیکل عملے کی کمی ہے جس کی شدت منظور شدہ اَسامیوں، موجودہ خالی اَسامیوں،اپریشنل تقاضوں اور خدمات کی فراہمی کی ضروریات کے لحاظ سے ہر ادارے میں مختلف ہے۔وزیر موصوفہ رُکن اسمبلی حضرت بل سلمان علی ساگر کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوںنے ایوان کو بتایا کہ محکمہ صحت و طبی تعلیم صحت اداروں میں افرادی قوت کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے جس کا مقصد دستیاب انسانی وسائل کا بہترین استعمال اور طبی خدمات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔وزیر صحت نے کہا کہ جہاں بھی ضرورت ہو، مریضوں کے دباؤ، آپریشنل تقاضوں، ادارہ جاتی ضروریات، خصوصی خدمات کی دستیابی اور عوامی صحت کی مجموعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دستیاب طبی اور پیرا میڈیکل اَفرادی قوت کو صحت اداروں میں معقول طریقے سے تعینات اور ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات کر رہی ہے کہ اَفرادی قوت کی کمی ضروری طبی خدمات کی فراہمی پر منفی اثر نہ ڈالے۔وزیر موصوفہ نے ضلع سری نگر میں صحت خدمات کی فراہمی پر عملے کی کمی کے اثرات کے متعلق مخصوص سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر بھر میں صحت خدمات فی الحال ہموار طریقے سے کام کر رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں کمی موجود ہے، اسے نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت عملے کی تعیناتی/تقرری کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے، جیسا کہ قواعد کے مطابق جائز ہے۔وزیر صحت نے ایوان کو بتایا،’’نتیجتاً، ضلع سری نگر میں صحت خدمات کی فراہمی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔‘‘اُنہوں نے سکمز میں ڈاکٹروں، نرسوں اور متعلقہ عملے کی کمی کے معاملے پر کہا کہ وہاں صحت خدمات فی الحال بخوبی چل رہی ہیں۔اُنہوںنے کہا کہ دستیاب اَفرادی قوت کو بہترین طریقے سے بروئے کار لایا جارہا ہے جبکہ مریضوں کی خدمات کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے بھرتیاں اور متبادل کے طور پر جائز اِنتظامات کر کے خالی اَسامیوں کو پُرکرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اَفرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے اور صحت اداروں کو مریضوں کی خدمات کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لئے تعیناتی، بھرتی، این ایچ ای کے تحت تقرری اور دیگر ممکنہ اِنتظامات کا امتزاج اَپنا رہا ہے۔