الیکٹرک ٹرکوں کی خرید و استعمال میں آسانی

الیکٹرک ٹرکوں کی خرید و استعمال میں آسانی

نیتی آیوگ کا نیا پلیٹ فارم متعارف

سرینگر//ٹی ای این / ملک میں برقی مال برداری کے نظام کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیتی آیوگ کے رکن راجیو گوبا نے پیر کو پانچویں ای فاسٹ انڈیا سمٹ 2026 کے دوران ’پلیٹ فارم فار ایگریگیٹنگ کلین ٹرانسپورٹ‘ (پی اے سی ٹی) کا آغاز کیا۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد ملک بھر میں صفر اخراج والے ٹرکوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کو تیز کرنا اور برقی مال بردار گاڑیوں کی خرید، مالی معاونت، چارجنگ اور آپریشن سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔اس موقع پر سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی وزارت کے سکریٹری وی امیشَنکر، وزارتِ بھاری صنعت کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر حنیف قریشی، نیتی آیوگ کی الیکٹرک موبلٹی پروگرام ڈائریکٹر ارچنا متل اور ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پون ملوکْتلا سمیت متعدد اعلیٰ حکام موجود تھے۔ سربراہی اجلاس میں مال برداری، مالیاتی شعبے اور صنعت سے وابستہ تقریباً 250 نمائندوں نے شرکت کی۔نیتی آیوگ کے ای فاسٹ انڈیا پروگرام کے تحت شروع کیا گیا پی اے سی ٹی مال برداری کی طلب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا۔ اس کے ذریعے سامان بھیجنے والی کمپنیوں اور لاجسٹکس سروس فراہم کرنے والوں کی ضروریات کو شناخت شدہ مال بردار راہداریوں میں برقی ٹرکوں کی تعیناتی کے مواقع سے جوڑا جائے گا۔اس پلیٹ فارم کے ذریعے برقی ٹرک تیار کرنے والی کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور چارجنگ پوائنٹ آپریٹروں کو بھی ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ مارکیٹ میں طلب کے بارے میں بہتر اندازہ پیدا ہو اور درمیانے و بھاری وزن والی برقی گاڑیوں کی تجارتی طور پر قابلِ عمل تعیناتی کو فروغ مل سکے۔اجلاس میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں برقی مال بردار گاڑیوں کی تعیناتی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2025 میں جہاں ایسی گاڑیوں کی تعداد 201 تھی، وہیں مالی سال 2026 میں یہ بڑھ کر 826 ہوگئی، جو ایک سال کے دوران چار گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔فی الحال ملک بھر میں 3,000 سے زیادہ درمیانے اور بھاری وزن والی برقی مال بردار گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس شعبے کی مزید ترقی کیلئے مربوط چارجنگ بنیادی ڈھانچے، مناسب مالیاتی ماڈل اور کاروباری شراکت داریوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتی آیوگ کے رکن راجیو گوبا نے کہا کہ ملک نے برقی گاڑیوں کی تیاری کیلئے مقامی صلاحیت اور معاون پالیسی نظام تیار کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اگلے مرحلے میں برقی ٹرکوں کے استعمال کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کیلئے پورے ماحولیاتی نظام سے متعلق مسائل کو مشترکہ کوششوں کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جدید مالیاتی ماڈل، مال بردار راہداریوں پر مبنی چارجنگ بنیادی ڈھانچہ اور مارکیٹ پر مبنی شراکت داریاں برقی ٹرکوں کو تجارتی طور پر قابلِ عمل بنانے اور ان کے استعمال میں تیزی لانے کیلئے اہم ثابت ہوں گی۔سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی وزارت کے سکریٹری وی امیشَنکر نے بھی برقی مال برداری کے شعبے میں نظامی سطح پر جدت کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برقی مال برداری کو تیز کرنے کیلئے لاجسٹکس آپریشنز، چارجنگ بنیادی ڈھانچے کی مالی معاونت اور بیٹری کے انتظام سے متعلق شعبوں میں نئے طریقہ کار اپنانا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بیٹری کی صحت کی نگرانی کرنے والے نظام متعارف کرانے سے شفافیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کیلئے اعتماد پیدا کیا جاسکتا ہے۔پی اے سی ٹی کے علاوہ اجلاس میں ’زیڈ ای ٹی مارکیٹ پلیس‘ بھی متعارف کرائی گئی۔ یہ ایک کاروباری رابطہ پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے برقی ٹرک بنانے والی کمپنیوں، لاجسٹکس سروس فراہم کرنے والوں، چارجنگ پوائنٹ آپریٹروں اور مالیاتی اداروں کو براہ راست کاروباری مواقع اور شراکت داری کیلئے ایک دوسرے سے جوڑا جائے گا۔اس پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد صفر اخراج والی مال برداری کے منصوبوں کو صرف اعلانات اور تجرباتی منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی اور تجارتی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے۔سمٹ کے دوران ہونے والے تکنیکی اور مکمل اجلاسوں میں مالی خطرات کو کم کرنے کے طریقہ کار، چارجنگ بنیادی ڈھانچے اور برقی مال برداری کے پائلٹ منصوبوں سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر تجارتی تعیناتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔نیتی آیوگ کے مطابق پی اے سی ٹی اور زیڈ ای ٹی مارکیٹ پلیس کے ذریعے بڑھتی ہوئی طلب اور سرمایہ کاری میں دلچسپی کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاکہ ملک میں صاف ستھری اور پائیدار مال برداری کے نظام کو فروغ دیا جاسکے۔پی اے سی ٹی کے آغاز اور زیڈ ای ٹی مارکیٹ پلیس کے تعارف کو بھارت میں صفر اخراج والی مال برداری کے نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔