power

جموں و کشمیر میں بجلی کے نئے نرخ نافذ

6.83 فیصد اوسط اضافہ،اطلاق آج سے

سری نگر//ٹی ای این / جموں و کشمیر میں بجلی صارفین کے لیے نظرثانی شدہ نرخ منگل سے نافذ ہوگئے ہیں۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے لیے مشترکہ بجلی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی۔جے کے ایل) کی جانب سے منظور کیے گئے نئے نرخوں میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے نرخ یکم ستمبر 2026 سے 31 مارچ 2027 تک نافذ رہیں گے۔نئے نرخوں کے تحت میٹر والے گھریلو صارفین کے لیے ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی کی توانائی فیس 2.45 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے، جبکہ 201 سے 400 یونٹ تک کھپت پر 4.20 روپے فی یونٹ اور 400 یونٹ سے زیادہ کھپت پر 4.60 روپے فی یونٹ وصول کیے جائیں گے۔ مقررہ چارج بھی بڑھا کر 10 روپے فی کلوواٹ ماہانہ کردیا گیا ہے۔نئے بجلی نرخوں میں ٹائم آف ڈے (ٹی او ڈی) بلنگ کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ نظام 10 کلوواٹ سے زیادہ منظور شدہ لوڈ رکھنے والے صارفین پر لاگو ہوگا، تاہم زرعی زمرے کے صارفین کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ٹی او ڈی نظام کے تحت بجلی کے استعمال کے اوقات کے لحاظ سے نرخ مختلف ہوں گے اور مقررہ اوقات میں زیادہ جبکہ آف پیک اوقات میں الگ نرخ لاگو ہوں گے۔کمیشن نے جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ اور کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کی آمدنی کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد نرخوں میں نظرثانی کی ہے۔جے ای آر سی کے مطابق دونوں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی مجموعی سالانہ آمدنی کی ضرورت 10,275.72 کروڑ روپے ہے، جبکہ موجودہ نرخوں کے تحت متوقع آمدنی 7,352.87 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس طرح 2,922.85 کروڑ روپے کا مالی خسارہ سامنے آیا۔کمیشن کے مطابق اگر پورے خسارے کو صارفین سے بجلی کے نرخوں کے ذریعے وصول کیا جاتا تو تقریباً 40 فیصد اضافہ کرنا پڑتا۔ تاہم جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے 2,420.78 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کیے جانے کے عزم کے باعث اوسط نرخوں میں اضافہ 6.83 فیصد تک محدود رکھا گیا۔بجلی کے نرخوں میں اضافے پر جموں و کشمیر میں سیاسی حلقوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور دیگر گروپوں نے صارفین پر اضافی مالی بوجھ کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے سابقہ وعدے کا بھی حوالہ دیا ہے۔نظرثانی شدہ نرخ یکم ستمبر سے استعمال ہونے والی بجلی پر لاگو ہوں گے اور آئندہ بجلی کے بل نئے نرخوں کے مطابق جاری کیے جائیں گے۔