مرکزی ملازمین کا مہنگائی الاؤنس 64 فیصد ہونے کا امکان

مرکزی ملازمین کا مہنگائی الاؤنس 64 فیصد ہونے کا امکان

اطلاق جولائی 2026 کیلئے ہوگا،افراط زر کے تازہ اعداد وشمار کے بعد فیصلہ

سرینگر/ٹی ای این / مرکزی سرکاری ملازمین اور پنشنروں کے لیے مہنگائی الاؤنس میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ تازہ افراطِ زر کے اعداد و شمار کے بعد جولائی 2026 سے مہنگائی الاؤنس یعنی ڈی اے 64 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ مرکزی حکومت کی منظوری اور باضابطہ اعلان کے بعد ہی ہوگا۔لیبر بیورو کی جانب سے جاری آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس فار انڈسٹریل ورکرز (اے آئی سی پی آئی۔آئی ڈبلیو) کے مطابق جولائی 2026 میں انڈیکس 1.3 پوائنٹس بڑھ کر 153.2 تک پہنچ گیا، جو جون میں 151.9 تھا۔ جولائی میں سالانہ افراطِ زر کی شرح 4.57 فیصد رہی، جبکہ جولائی 2025 میں یہ شرح 2.66 فیصد تھی۔تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر 12 ماہ کی اوسط تقریباً 149.21 بنتی ہے، جس کے مطابق ڈی اے کا حساب تقریباً 64.38 فیصد تک پہنچتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈی اے کی شرح مکمل فیصد میں مقرر کیے جانے کے معمول کے مطابق یہ شرح 64 فیصد رہنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ جولائی 2026 کے ڈی اے میں اضافے کا معاملہ اور جنوری 2027 کے ڈی اے کا حساب الگ الگ ہیں۔ جولائی 2026 کے لیے جون تک کے اے آئی سی پی آئی۔آئی ڈبلیو اعداد و شمار کی بنیاد پر ڈی اے تقریباً 63.75 فیصد بنتا تھا، جس کے نتیجے میں 60 فیصد سے 63 فیصد اضافے کی توقع کی گئی تھی۔تازہ جولائی کے اعداد و شمار دراصل جنوری 2027 کے ممکنہ ڈی اے کی سمت کا ابتدائی اشارہ دیتے ہیں۔ اگست سے دسمبر 2026 تک کے افراطِ زر کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد جنوری 2027 کے لیے حتمی شرح واضح ہوگی۔ موجودہ اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ شرح تقریباً 64 فیصد بنتی ہے۔مرکزی سرکاری ملازمین اور پنشنروں کے لیے ڈی اے میں ترمیم عام طور پر سال میں دو مرتبہ، یکم جنوری اور یکم جولائی سے مؤثر ہوتی ہے۔ تاہم مؤثر تاریخ اور حکومت کی جانب سے اعلان کے درمیان کچھ تاخیر ہوسکتی ہے۔ جولائی 2026 کے لیے حتمی شرح اور بقایاجات کی ادائیگی سے متعلق باضابطہ فیصلہ مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد سامنے آئے گا۔اس اضافے کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور مرکزی سرکاری ملازمین و پنشنروں کی قوتِ خرید کو برقرار رکھنے میں مدد دینا ہے۔