جموں// وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے گجر بکروال سٹوڈنٹس الائنس (جی بی ایس اے) جموںوکشمیرکی جانب سے جموں یونیورسٹی میں منعقدہ ایک روزہ سمینار ’’فارسٹ رائٹس ایکٹ کی عمل آوری اور آئندہ کے لائحہ عمل‘‘ میں شرکت کی۔یہ سمینار گجر بکروال سٹوڈنٹس الائنس (جی بی ایس اے) کے تیسرے’ یومِ تاسیس‘ کی تقریبات کے سلسلے میں منعقد کیا گیا جس میں طالب علموں، قبائلی کمیونٹیوں کے اَفراد اور دیگر شراکت داروں نے شرکت کی اور فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) کی عمل آوری سے متعلق مختلف امور پر غور و خوض کیا۔وزیر موصوف نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فارسٹ رائٹس ایکٹ کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون جنگلات میں رہنے والی قبائلی کمیونٹیوں اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں کے جائز حقوق اور مراعات کو تسلیم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی جاوید رانا نے کہا کہ اہل برادریوں میں ایکٹ کی دفعات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنے حقوق کا استعمال کر سکیں اور مقررہ قانونی دائرہ? کار کے اندر دستیاب فوائد تک رسائی حاصل کر سکیں۔جاوید رانا جو اِس موقعہ پر مہمانِ خصوصی تھے ، نے ایکٹ کی دفعات کے بارے میں اہل کمیونٹیوں میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ مقررہ قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اَپنے حقوق کا اِستعمال اور دستیاب فوائد سے استفادہ کر سکیں۔اُنہوں نے کہا کہ فارسٹ رائٹس ایکٹ کی دفعات کو قبائلی کمیونٹیوں کے لئے حقیقی حقوق اور مواقع میں تبدیل کرنے کے لئے بیداری ، شرکت اور اِجتماعی کوششیں ضروری ہے۔ وزیر موصوف نے کہا، ’’آئیے ہم اَپنے حقوق اور اپنے مستقبل کے لئے ایک دوسرے سے جڑیں، سیکھیں اور عملی اقدام کریں۔ بیداری بااِختیار بنانے کی جانب پہلا قدم ہے جبکہ اِجتماعی شرکت اس بات کو یقینی بنانے کی کلید ہے کہ ہر اہل مستفید شخص فارسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت دئیے گئے حقوق کو حاصل کر سکے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ قبائلی کمیونٹیوں کو بااِختیار بنانا ترقیاتی عمل کا لازمی حصہ ہونا چاہیے اور تعلیم، معاش کے مواقع اور سرکاری فلاحی پروگراموں تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے مرکوز کوششوں کی ضرورت ہے۔جاوید رانا نے متعلقہ محکموں، نچلی سطح کے اِداروں اور کمیونٹی کے نمائندوں کے درمیان قریبی تال میل کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیاتاکہ عمل آوری سے متعلق مسائل کو حل کیا جا سکے اور فارسٹ رائٹس ایکٹ کے مقاصد کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکے۔اُنہوں نے قبائلی کمیونٹیوں اور نوجوانوں کے ساتھ تعمیری روابط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقوق پر مبنی قانون سازی کی عمل آوری کو مضبوط بنانے کے لئے باخبر شرکت اور بیداری انتہائی ضروری ہے۔سمینارمیں فارسٹ رائٹس ایکٹ کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیاجن میں بیداری، جنگلاتی حقوق کی پہچان، اِدارہ جاتی میکانزم، کمیونٹی کی شرکت اور ایکٹ کی عمل آوری کو مضبوط بنانے کے لئے آئندہ کے لائحہ عمل جیسے امور شامل تھے۔وزیر موصوف نے جی بی ایس اے کوسمینار کے اِنعقاد اور قبائلی کمیونٹیوں اور فارسٹ رائٹس سے متعلق امور پر بامعنی گفتگو کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے پر سراہا۔تقریب میں گجر بکروال سٹوڈنٹس الائنس کے نمائندگان، طالب علموں ، قبائلی کمیونٹیوںکے اَفراد ، سماجی کارکنان اور دیگر شراکت داروں نے شرکت کی۔گجر بکروال سٹوڈنٹس الائنس(جی بی ایس اے)نے وزیر جنگلات و قبائلی امور کے تحت دو اہم قوانین متعارف کرنے پر شکریہ ادا کیا جن کا مقصد فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانا اور جنگلات میں رہنے والی کمیونٹیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔










