ورچوئل ڈسیکشن ٹیبل ٹینڈرکی واگذاری کا معاملہ

ورچوئل ڈسیکشن ٹیبل ٹینڈرکی واگذاری کا معاملہ

ہائی کورٹ نے پونے کی فرم کی عرضی خارج کردی

سرینگر/ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے پونے کی کمپنی میسرزپروہیلتھ سائنٹفک پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دائر کردہ عرضی خارج کردی ہے، جس میں کمپنی نے جموں و کشمیر میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹڈ کے اناٹومی ویچیول ڈسیکشن ٹیبل کی خریداری سے متعلق ٹینڈر میں اپنی بولی مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔جسٹس راجیش اوسوال نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کمپنی ٹینڈر میں مقررہ لازمی سالانہ ٹرن اوور کی شرط پوری کرنے میں ناکام رہی اور وہ 2016 کے حکومت ہند کے ایک سرکلر کی بنیاد پر اس شرط میں رعایت کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔عدالت نے عرضی کو ’’بنیادی طور پر میرٹ سے عاری‘‘ قرار دیتے ہوئے خارج کردیا اور اس سے منسلک تمام متفرق درخواستوں کو بھی نمٹا دیا۔ فیصلہ 14 اگست 2026 کو جموں میں ہائی کورٹ کے ونگ میں سنایا گیا، جبکہ اس پر سماعت مکمل ہونے کے بعد 4 اگست کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔یہ معاملہ جے کے ایم ایس سی ایل کی جانب سے 28 فروری 2025 کو جاری کیے گئے ٹینڈر سے متعلق تھا، جس کے تحت مختلف مشینری اور آلات کی خریداری کی جانی تھی۔ ان میں ایک اناٹومی ورچیول ڈیسکشن ٹیبل بھی شامل تھا۔ٹینڈر کی تکنیکی شرائط کے مطابق بولی دہندگان کو مالی سال 2021-22، 2022-23 اور 2023-24 کے دوران اصل کمپنی کی بھارتی ذیلی کمپنی یا واحد درآمد کنندہ کا اوسط سالانہ ٹرن اوور پیش کرنا لازمی تھا۔ مقررہ ٹرن اوور 5 کروڑ روپے تھا اور اس کے لیے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا مجاز اتھارٹی کی جانب سے یو ڈی آئی این کے ساتھ تصدیق شدہ دستاویزات، آڈٹ شدہ بیلنس شیٹ اور منافع و نقصان کے گوشوارے پیش کرنا ضروری تھا۔18 اگست 2025 کو تکنیکی بولیوں کی جانچ کے دوران کمیٹی نے درخواست گزار کمپنی کے دستاویزات میں بعض خامیوں کی نشاندہی کی اور اسے مالی سال 2021-22 کے ٹرن اوور کی تفصیلات اور اسی سال کی آڈٹ شدہ بیلنس شیٹ سمیت دیگر دستاویزات پیش کرنے کو کہا۔ بعد ازاں کمپنی کو ٹینڈر کے لیے اہل قرار نہیں دیا گیا، جبکہمیسرزمیورک سائمولیشن سلوشنز کو 21 اگست 2025 کو کامیاب امیدوار کے طور پر سفارش کی گئی۔پروہیلتھ سائنٹفک نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ہے جس نے 2022 میں کاروبار شروع کیا تھا، اس لیے وہ 2021-22 کا ٹرن اوور پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ چونکہ ٹینڈر جمع کرانے کی آخری تاریخ بڑھا کر 26 اپریل 2025 کردی گئی تھی، اس لیے مالی سال 2024-25 کو تازہ ترین سال کے طور پر شمار کیا جانا چاہیے تھا۔کمپنی کے مطابق اس نے 2022-23، 2023-24 اور 2024-25 کے ٹرن اوور کی تفصیلات جمع کرائی تھیں اور ان کے مطابق مقررہ مالی معیار پورا ہوتا تھا۔ کمپنی نے الزام لگایا کہ جے کے ایم ایس سی ایل نے 2024-25 کے ٹرن اوور کو مدنظر نہیں رکھا اور اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای کے لیے ٹینڈر شرائط میں رعایت کی درخواست پر بھی مناسب غور نہیں کیا۔درخواست گزار نے ماضی کے دو جے کے ایم ایس سی ایل ٹینڈرز کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ ان معاملات میں کارپوریشن نے ٹرن اوور کی شرائط میں رعایت دیتے ہوئے بعد کے مالی سالوں کو مدنظر رکھا تھا، لہٰذا اسے بھی اسی بنیاد پر رعایت دی جانی چاہیے۔تاہم سرکاری فریق نے اس موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹینڈر میں واضح طور پر 2021-22، 2022-23 اور 2023-24 کے مالی سال مقرر کیے گئے تھے اور درخواست گزار ان لازمی شرائط کو پورا نہیں کرتا تھا۔ حکام کے مطابق کمپنی نے اس کے بجائے 2024-25 کا ٹرن اوور سرٹیفکیٹ پیش کیا، جو ٹینڈر کی شرائط کے مطابق قابل قبول نہیں تھا۔حکام نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ 10 مارچ 2016 کا ایم ایس ایم ای سرکلر محض انتظامی اور مشاورتی نوعیت کا تھا اور اس کی بنیاد پر کوئی بولی دہندہ ٹینڈر شرائط میں رعایت کا قانونی حق نہیں جتا سکتا۔عدالت نے ٹینڈر کی شرائط کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ شق 12 اور 13 کے تحت مالی سال 2021-22، 2022-23 اور 2023-24 کا اوسط سالانہ ٹرن اوور اور متعلقہ آڈٹ شدہ مالی دستاویزات پیش کرنا واضح طور پر لازمی تھا۔جسٹس راجیش اوسوال نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کمپنی نے 2022 میں کاروبار شروع کیا تھا اور اس لیے وہ مقررہ مالی اہلیت پوری نہیں کرتی تھی۔ عدالت نے کہا کہ کمپنی ٹینڈر کی شرائط سے واقف ہونے کے باوجود بولی کے عمل میں شامل ہوئی، لہٰذا لازمی شرط پوری نہ کرنے کی صورت میں اس کی بولی مسترد کی جاسکتی ہے۔ہائی کورٹ نے 2024-25 کے ٹرن اوور کو مدنظر رکھنے کے مطالبے کو بھی مسترد کردیا۔ عدالت نے کہا کہ ایسا کرنا دراصل ٹینڈر کی اصل شرائط کو تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا، جو آئینی دفعہ 226 کے تحت عدالتی نظرثانی کے دائرے میں نہیں آتا۔عدالت نے واضح کیا کہ ٹینڈر جاری کرنے والا ادارہ بولی دہندگان کی اہلیت اور ٹینڈر کی شرائط کے مطابق ان کی ریسپانسیونس کا بہترین فیصلہ کرسکتا ہے۔ عدالتوں کو ایسے تجارتی فیصلوں میں اس وقت تک مداخلت سے گریز کرنا چاہیے جب تک ان میں من مانی، جانبداری یا بدنیتی کے واضح شواہد موجود نہ ہوں۔عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے 2016 کے MSME سرکلر پر انحصار بھی مسترد کردیا۔ عدالت کے مطابق یہ سرکلر مرکزی وزارتوں، محکموں اور مرکزی سرکاری اداروں سمیت متعلقہ اداروں کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس لیے اسے جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام علاقے یا اس کے متعلقہ حکام پر براہ راست لاگو نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے مزید کہا کہ مذکورہ سرکلر نے صرف مائیکرو اینڈ سمال انٹرپرائز کے لیے سابقہ ٹرن اوور اور تجربے کی شرائط میں رعایت دینے کا اختیار فراہم کیا تھا، لیکن کسی کمپنی کو رعایت کا قابل نفاذ قانونی حق نہیں دیا تھا۔ہائی کورٹ نے سابقہ دو ٹینڈرز کی بنیاد پر یکساں رعایت کے دعوے کو بھی مسترد کردیا۔ عدالت نے متعلقہ وضاحت کو تسلیم کیا کہ ان ٹینڈرز میں سابقہ مالی سالوں کے حوالے محض غیر ارادی غلطیاں تھیں جنہیں بعد میں درست کردیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق ان غلطیوں کو ٹینڈر شرائط میں رعایت قرار نہیں دیا جاسکتا۔عدالت نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹینڈر معاملات میں عدالتی نظرثانی کا مقصد من مانی، غیر معقولیت، جانبداری اور بدنیتی کو روکنا ہے، نہ کہ عدالت خود کسی تجارتی فیصلے کی خوبی یا کمزوری کا فیصلہ کرے۔ان مشاہدات کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے Wعرضی کو مسترد کردیا اور اس سے منسلک متفرق درخواستیں بھی نمٹا دیں۔