عوامی ٹرانسپورٹ میں خواتین کیلئے مخصوص نشستیں یقینی بنائیں

جموں وکشمیر کی عدالت عالیہ نے انتظامیہ کو ہدایت دی

سرینگر/ / جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی ٹرانسپورٹ میں خواتین مسافروں کی حفاظت، سہولت اور باوقار سفر کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کو خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کے مؤثر نفاذ سمیت متعدد اہم ہدایات جاری کی ہیں۔یہ ہدایات ایک عوامی مفاد کی عرضی کی سماعت کے دوران جاری کی گئیں، جو ایڈووکیٹ منیسا منظور میر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ ایک ڈویزن بینچ، جس میں قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی شامل تھے، نے خواتین مسافروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو عملی اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔عدالت نے واضح کیا کہ عوامی ٹرانسپورٹ میں خواتین مسافروں کی’’حفاظت اور آرام‘‘ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ عدالت نے ٹرانسپورٹ کمشنر کو ہدایت دی کہ سرکلر نمبر 3 TC/2025 پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جس کے تحت بڑی بسوں میں نشست نمبر ایک سے 12 تک جبکہ منی بسوں میں نشست نمبر ایک سے 9 تک خواتین کے لیے مخصوص کی گئی ہیں۔ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ عوامی ٹرانسپورٹ کی ہر گاڑی میں خواتین کے لیے مختص نشستوں کی واضح طور پر نشاندہی کی جائے اور ان نشستوں پر نمایاں اور جلی حروف میں ’’خواتین کیلئے مخصوص‘‘تحریر کیا جائے، تاکہ خواتین مسافر آسانی سے مخصوص نشستوں کی شناخت کرسکیں اور متعلقہ حکام بھی قواعد پر عمل درآمد یقینی بنا سکیں۔عدالت نے جموں و کشمیر لیگل سروسز اتھارٹی کو بھی ہدایت دی کہ وہ خاص طور پر عوامی ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں اور ہیلپرز کے لیے آگاہی پروگرام منعقد کرے۔ ان پروگراموں کے ذریعے انہیں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں اور خواتین مسافروں کے حقوق سے متعلق حساس بنایا جائے تاکہ مخصوص نشستیں ضرورت کے مطابق خواتین کو فراہم کی جاسکیں۔عدالت نے لیگل سروسز اتھارٹی سے کہا کہ وہ سرکلر نمبر 3/TC/2025 کے بارے میں عوام میں بھی وسیع پیمانے پر بیداری پیدا کرے۔ اس مقصد کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سمیت مختلف ذرائع استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ مسافروں کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو بھی ان ضوابط اور ان کی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ کیا جاسکے۔ہائی کورٹ نے محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پولیس کو مشترکہ طور پر ایک مؤثر شکایتی نظام قائم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس نظام کے ذریعے خواتین مسافر مخصوص نشست فراہم نہ کیے جانے یا عوامی ٹرانسپورٹ میں اس سے متعلق دیگر مشکلات کی شکایت درج کراسکیں گی اور ان شکایات کے بروقت ازالے کے لیے مناسب طریقہ کار بھی موجود ہوگا۔عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ صرف قواعد وضع کرنا کافی نہیں بلکہ ان پر زمینی سطح پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے، تاکہ خواتین مسافروں کو عوامی ٹرانسپورٹ میں محفوظ اور آرام دہ سفر کی سہولت حاصل ہوسکے۔عدالت نے اپنے حکم کی نقل متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ہدایت دیتے ہوئے ان سے تعمیل رپورٹ 6 اکتوبر تک پیش کرنے کو کہا ہے۔