لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں سے بے لوث خدمت ، عمل ، قربانی ، تمام مذاہب و عقائد کے احترام اور اَپنے اندر ہمت ، ہمدردی ، نظم و ضبط اور اتحاد کو پروان چڑھانے پر زور دیا
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے سمادھی پرتشٹھادیوس ،ناگ پنچمی مہااُتسو اور پورن آہوتی کے موقعہ پر اننت ناگ میں شری راما کرشنا مہاسمیلن آشرم کا دورہ کیا۔اُنہوں نے ثقافتی ورثے اور ثقافتی تحفظ کے لئے وقف منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں اس آشرم کے تئیں گہری عقیدت کا اظہار کیا جس نے صدیوں سے چلی آ رہی رشیوں اور مُنیوں کی حکمت و دانائی کو محفوظ رکھا ہے۔اُنہوں نے سوامی اشوکانند جی مہاراج کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے 1937 میں ان کے بصیرت افروز عزم کو یاد کیاجس نے آشرم کو ایک فعال روحانی مرکز میں تبدیل کر دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سوامی اشوکانند جی مہاراج نے محض ایک عبادت گاہ کا تصور نہیں کیا تھا بلکہ ایک ایسے زندہ ادارے کا خواب دیکھا تھا جو سناتن دھرم کے ابدی پیغام کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی حقیقی ضروریات کی خدمت بھی کرے۔اُنہوںنے کہا، ’’ان کی خدمت، نظم و ضبط اور لگن کی میراث آج بھی نسلوں کو تحریک دیتی رہتی ہے۔ جب سوامی اشوکانند جی مہاراج 1971 میںاس دُنیا کو چھوڑ کر چلے گئے تو وہ خدمت، نظم و ضبط، سادھنا اور لگن کی ایک زندہ روایت چھوڑ گئے جسے آج بھی اس آشرم کی ہر سرگرمی میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی تہذیب نے ہمیشہ روحانیت اور فطرت کو لازم و ملزوم کے طور پر دیکھا ہے ۔اُنہوں نے ایشا اْپنشد کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دِلایا کہ الوہیت پوری کائنات میں جلوہ گر ہے۔اُنہوں نے عالمی سطح پر درپیش موسمیاتی چیلنجوں کے تناظر میں نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دریاؤں، جنگلات، جانوروں اور تمام جانداروں کے تئیں اپنی ذِمہ داری کو سمجھیں تاکہ ترقی دیرپا اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ رہے۔اُنہوں نے آشرم میںنئے منصوبوں کا ذِکر کرتے ہوئے جن میں یاتری نواس کی تعمیر، تزئین و مرمت کے کام، ڈائننگ کمپلیکس اور یگیہ شالہ کی توسیع شامل ہیں، کا ذکر کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ منصوبے عقیدے کو عملی خدمت میں تبدیل کرنے کی علامت بنیں گے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ ہندوستانی ثقافت میں روحانیت کا مطلب دنیا کے تئیں ذِمہ داری ہے جسے بے لوث خدمت کے ساتھ اَدا کیا جائے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے بھگوت گیتا سے استفادہ کرتے ہوئے بھگوان کرشنا کی تعلیمات کا اعادہ کیا او رواضح کیا کہ جب عمل خدمت بن جائے اور خدمت لگن بن جائے، تو معمولی کام بھی سادھنا بن جاتا ہے۔اُنہوں نے آشرم کے سوامی وویکانند کیندر، کنیا کماری سے وابستہ ہونے کو بھی سراہا، جو ’’آتم نو موکشارتھم جگد ہتایہ چا‘‘ یعنی اَپنی نجات اور دُنیا کی بھلائی کے اصول پر کام کرتاہے ۔اُنہوںنے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سوامی وویکانند کے خود اعتمادی، بے خوفی اور بے لوث خدمت کے پیغام سے تحریک حاصل کریں۔ اُنہوں نے یاد دلایا کہ حقیقی طاقت انسان کے اندر موجود ہوتی ہے اور ہر فرد اپنی تقدیر کا خود معمار ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ہندوستان کے صدیوں پرانے کثر ت میں وحدت کے فلسفے کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی طاقت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ تنوع کا احترام کرتے ہوئے متحد ہو کر آگے بڑھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سرو دھرم سمبھاؤ یعنی تمام مذاہب کے لئے یکساں احترام، ہندوستان کی جانب سے دُنیا کو دیا گیا ایک عظیم پیغام ہے۔اُنہوںنے کہا، ’’سوامی وویکانند نے کہا کہ انسان کی اصل طاقت اندر ہے، اور کسی کو بھی خود کو کمزور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، آپ کے اندر ترقی، تبدیلی اور عظیم کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ سوامی وویکانند نے حقیقی کامیابی اور حقیقی خوشی کا راز بھی بیان کیا کہ حقیقی معنوں میں دولت مند وہ شخص ہے جو کسی صلے کی توقع کئے بغیر خدمت کرتا ہے اور بے لوث جذبے کے ساتھ عمل کرتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آشرم کے رضاکاروں، عقیدت مندوں اور عہدہ دروں کو معاشرے کو بے لوث عمل کی طرف ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔اِس موقعہ چیئرمین، انتظامی کمیٹی، شری رام کرشنا مہاسمیلن آشرم وویکانند کیندرناگ ڈانڈی پر پدم شری برج لال بھٹ، پرنسپل سیکرٹری،محکمہ کلچر برج موہن شرما، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، ڈِی آئی جی جنوبی کشمیر جاوید اقبال متو، ایس ایس پی اننت ناگ امود اشوک ناگپورے، ضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ، شری شیوانند روہت رینہ، شری رام کرشن مہاسمیلن آشرم اور وویکانند راک میموریل و وویکانند کیندر، کنیا کماری کے ارکان،سینئراَفسران، ممتاز شہری اور بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔










