editorial

بچوں کے بگاڑ میں گھر کے ماحول کا کردار

موجودہ زمانے میں بچوں کے بگاڑ کا اصل سبب صرف خارجی ماحول نہیں بلکہ گھر کا داخلی ماحول بھی ہے۔ گھر کا داخلی ماحول کون بناتا ہے؟ والدین۔ جب تک گھر کا ماحول حقیقی معنوں میں دینی اور آخرت پسندانہ نہ بنایا جائے، بچوں کی صحیح اصلاح ممکن نہیں۔ موجودہ زمانے میں بہت سے مسائل کی ایک بڑی وجہ مال اور روپے کمانے کی دوڑ ہے۔ والدین کی توجہ اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ گھر میں ہر قسم کی راحت و آسائش کے سامان جمع کیے جائیں اور بچوں کی تمام مادی خواہشات پوری کی جائیں۔ یہ طرزِ زندگی ایک عام کلچر بن چکا ہے، خواہ گھر امیر ہو یا غریب۔ والدین کے اسی طرزِ عمل نے بہت سے گھروں کو مادہ پرستی کا مرکز بنا دیا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر بچوں میں مادہ پرستانہ ذہنیت پیدا کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ ان کے بچے آخرت میں جنت کے مستحق بنیں۔ یہ محض خوش خیالی ہے بچوں کی تربیت صرف نصیحتوں سے نہیں ہوتی بلکہ والدین کے اپنے عمل سے ہوتی ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے گھر میں دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ اگر گھر میں دین، سادگی، قناعت، عبادت، اچھے اخلاق اور دوسروں کا احترام موجود ہوگا تو اس کے اثرات بچوں کی شخصیت پر ضرور پڑیں گے۔
اگر والدین واقعی اپنی اولاد کو دیندار اور آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو انہیں اس مقصد کے لیے عملی قربانی دینا ہوگی۔ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر بچوں کی تربیت کرنا ہوگی اور انہیں صرف دنیا کی کامیابی نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کا شعور بھی دینا ہوگا۔ محض خواہش اور زبانی دعوے بچوں کی اصلاح نہیں کر سکتے۔