5برس میں 66,436 مستفیدین کو 1,384 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم
سرینگر/ یو این ایس/جموں و کشمیر گزشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران پردھان منتری ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام پر عمل درآمد کے حوالے سے ملک کے بہترین کارکردگی دکھانے والے علاقوں میں شامل رہا ہے۔ اس عرصے میں 66 ہزار 436 مستفیدین کو مالی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ 1,384.40 کروڑ روپے کی مارجن منی سبسڈی جاری کی گئی۔ یہ جانکاری مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں دی۔یو این ایس کے مطابق مرکزی وزیر مملکت برائے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز شوبھا کرندلاجے نے ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ مالی سال 2021- 22 سے 2025-26 کے درمیان جموں و کشمیر میں پی ایم ای جی پی کے تحت ایک لاکھ 53 ہزار 297 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 98 ہزار 982 منصوبوں کو منظوری دی گئی۔ ان منظور شدہ منصوبوں کے نتیجے میں 66 ہزار 436 افراد کو مالی معاونت فراہم کی گئی، جس کے باعث جموں و کشمیر ملک کے نمایاں کارکردگی والے علاقوں میں شامل ہو گیا۔پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مارجن منی سبسڈی کے لحاظ سے صرف اتر پردیش جموں و کشمیر سے آگے رہا۔ اتر پردیش میں 48 ہزار 663 مستفیدین کو 1,748.27 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی، جبکہ جموں و کشمیر میں اس سے زیادہ یعنی 66 ہزار 436 مستفیدین کو نسبتاً کم رقم، 1,384.40 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی۔مرکزی حکومت نے بتایا کہ اسکیم پر مؤثر عمل درآمد کے لیے بالخصوص دیہی، قبائلی اور خواہشمند اضلاع میں کئی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں خصوصی زمروں کے درخواست گزاروں کے لیے زیادہ سبسڈی، کم ذاتی سرمایہ، ریاستی دفاتر میں پی ایم ای جی پی ہیلپ ڈیسک، پورٹل پر ایک ہزار سے زائد ماڈل پروجیکٹ رپورٹس، ریزرو بینک کے رہنما اصولوں کے مطابق 20 لاکھ روپے تک بغیر ضمانت بینک قرض، جن سمرتھ پلیٹ فارم کے ساتھ انضمام، بینکوں کے ساتھ باقاعدہ جائزہ اجلاس اور بیداری مہمات شامل ہیں۔










