1,322 کو پری میٹرک وظیفہ ملا، اسکالرشپ براہ راست بینک کھاتوں میں منتقل
سرینگر// یو این ایس/جموں و کشمیر میں مالی سال 2025-26 کے دوران درج فہرست قبائل (ایس ٹی) سے تعلق رکھنے والے 4,548 طلبہ کو پوسٹ میٹرک اسکالرشپ جبکہ 1,322 طلبہ کو پری میٹرک اسکالرشپ فراہم کی گئی۔ یہ جانکاری مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں پیش کی۔یو این ایس کے مطابق مرکزی وزیر مملکت برائے قبائلی امور درگا داس اوئیکے نے ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ دونوں اسکالرشپ اسکیموں پر عمل درآمد، نگرانی، اخراجات کی تفصیلات اور فنڈز کے استعمال کی رپورٹنگ کے لیے ڈی بی ٹی ٹرائبل پورٹل استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مستحق طلبہ کے بینک کھاتوں میں رقم براہ راست منتقل کی جاتی ہے۔پارلیمنٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں پری میٹرک اسکالرشپ سے مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد 2023-24میں 4,665 تھی، جو 2024-25میں کم ہو کر 365 رہ گئی، جبکہ 2025-26میں بڑھ کر 1,322 ہو گئی۔اسی طرح پوسٹ میٹرک اسکالرشپ سے فائدہ اٹھانے والے طلبہ کی تعداد 2023-24میں 10,399، 2024-25میں 6,591 اور 2025-26میں 4,548 ریکارڈ کی گئی۔مرکزی حکومت کے مطابق لداخ میں 2025-26کے دوران 2,459 طلبہ کو پری میٹرک جبکہ 139 طلبہ کو پوسٹ میٹرک اسکالرشپ فراہم کی گئی۔وزیر نے بتایا کہ وزارتِ قبائلی امور نے اسکالرشپ اسکیموں میں مکمل ڈیجیٹل نظام نافذ کیا ہے، جس کے تحت آن لائن درخواستوں کی جانچ، مشترکہ ڈیٹا معیار، حقیقی وقت میں نگرانی اور ،ایس این اے و اسپرش نظام کے ذریعے فنڈز کی بروقت اور شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد اسکالرشپ کی تقسیم میں تاخیر، شکایات، نقل اندراج اور درمیانی افراد کے کردار کو کم کرتے ہوئے مستحق طلبہ تک مالی معاونت براہ راست اور شفاف انداز میں پہنچانا ہے۔










