سکینہ اِیتو نے 50بستروں پر مشتمل سب ڈِسٹرکٹ ہسپتال کیموہ کا اِفتتاح کر کے لوگوں کے نام وقف کیا

سکینہ اِیتو نے 50بستروں پر مشتمل سب ڈِسٹرکٹ ہسپتال کیموہ کا اِفتتاح کر کے لوگوں کے نام وقف کیا

ڈی ایچ پورہ کے چمر علاقے میں سڑک کی بحالی اور سکولی عمارت کے منصوبو ں کا سنگ بنیاد بھی رکھا

کولگام//وزیربرائے تعلیم، صحت و طبی تعلیم اور سماجی بہبود محکمہ جات سکینہ اِیتو نے کیموہ میں 50 بستروں پر مشتمل نئے سب ڈِسٹرکٹ ہسپتال کا اِفتتاح کیا اور ایک پُروقار تقریب میں اسے عوام کے نام وقف کیا جس میں ممبر اسمبلی دیوسر پیرزادہ فیروز احمد،ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام شہزاد عالم، محکمہ صحت کے افسران و ملازمین اور مقامی لوگوںنے شرکت کی۔اِس موقعہ پر وزیر صحت نے خطاب کرتے ہوئے قیموہ اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو مُبارک باد دِی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہسپتال کو مرحلہ وار اضافی عملے اور مزید بہتر سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔سکینہ ایتو نے کہا،’’حکومت پورے جموں و کشمیر میں صحت خدمات کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ہسپتالوں اور صحت مراکز کو مضبوط بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں عملے کی نئی بھرتی اور طبی و غیر طبی سہولیات کو اَپ گریڈ کرنا شامل ہے۔‘‘اُنہوں نے صحت عامہ سے متعلق مسائل کے حل میں جوابدہی اور فوری کارروائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہسپتال اِنتظامیہ اور عملے پر زور دیا کہ وہ عوام کی جائز ضروریات اور مطالبات کو فوری طور پر پورا کریں اور نچلی سطح تک بہتر طرزِ حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ممبر اسمبلی دیوسر نے ہسپتال کے اِفتتاح پر لوگوں کو مُبارک باد پیش کی اور طویل ِ انتظار کے بعد ہسپتال کو لوگوں کے لئے وقف کرنے پر حکومت کا شکریہ اَدا کیا۔ اُنہوں نے اسے علاقے میں صحت سہولیات تک رسائی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام نے نئے ہسپتال میں معیاری اور سستی طبی سہولیات کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا اور عملے سے اپیل کی کہ وہ پیشہ ورانہ مہارت، ہمدردی اور شفقت کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ اُنہوں نے عام لوگوں سے بھی اپیل کی کہ ہسپتال کے احاطے میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے ہسپتال اِنتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔رواں و تعمیرات (آر اینڈ بی) ڈویژن کولگام کی جانب سے 1932.65 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت سے تعمیر کیا گیا یہ ہسپتال جدید طرز کی گراؤنڈ پلس تین منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ عمارت کا پلنتھ ائیریا 19,900 مربع فٹ جبکہ کل کارپٹ ائیریا 58,000 مربع فٹ ہے جس میں 50 بستروں پر مشتمل داخلہ مریضان ( آئی پی ڈِی) کی سہولیت موجود ہے۔اس طبی مرکز میں مریضوں کے لئے مختلف جدید اور سہولیت بخش شعبے قائم کئے گئے ہیں جن میں کشادہ او پی ڈیز، آئی پی ڈیز، تشخیصی لیبارٹریاں اور مریضوں و ہسپتال کے عملے کے لئے مخصوص حصے شامل ہیں۔ اِس بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے تاکہ قیموہ اور آس پاس کے علاقوں کی آبادی کو صحت کی جامع خدمات فراہم کی جا سکے۔سب ڈِسٹرکٹ ہسپتال قیموہ کے فعال ہونے سے، رہائشیوں کو خصوصی علاج، ایمرجنسی ہیلتھ کیئر اور تشخیصی خدمات تک بہتر رسائی سے فائدہ ہونے کی توقع ہے جو انہیں گھر کے قریب میسر ہوں گی۔بعد میں وزیر صحت سکینہ اِیتو نے ڈی ایچ سب ڈویژن میں سڑکوں کی بحالی اور سکول کی تعمیر کے مختلف منصوبوں کا بھی سنگِ بنیاد رکھا۔ ان منصوبوں میں کوثر بل سے نندی مرگ تک سڑک کی مستقل بحالی، بٹ پورہ سے چمر تک سڑک کی بحالی اور چمر میں سکول کی عمارت کی تعمیر شامل ہے۔
چمر گاؤں میں ایک بڑے عوامی دربار کا بھی اِنعقاد کیا گیا اور اُنہوں نے لوگوں کے ترقیاتی اور فلاحی مطالبات اور بہتر عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق تجاویز سنیں۔ اُنہوں نے لوگوں کو یقین دِلایا کہ ان کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات پر حکومت کی جانب سے مرحلہ وار کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیر موصوف نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو حکومت کی جانب سے جاری مختلف اقدامات اور منصوبوں سے آگاہ کیاجن کا مقصد حکمرانی کے تمام شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ ان اقدامات میں سڑکوں، سکولوں اور اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں کے لئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور سماجی بہبود کی خدمات کو وسعت دینا شامل ہے۔مختلف ضلعی اور مقامی افسران و اہلکار بھی وزیر موصوفہ کے ہمراہ تھے۔