چیف سیکرٹری نے اَربن چیلنج فنڈ کے تحت شروع کئے جانے والے بنیادی ڈھانچے منصوبوں کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے اَربن چیلنج فنڈ کے تحت شروع کئے جانے والے بنیادی ڈھانچے منصوبوں کا جائزہ لیا

جموں// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے مرکزی حکومت کے اَربن چیلنج فنڈ ( یوسی ایف) کے تحت تجویز کردہ شہری بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کی نشاندہی اور شارٹ لسٹنگ میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے محکمہ مکانات و شہری ترقی( ایچ اینڈ یو ڈِی ڈِی ) کی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی، میونسپل کمشنروںاور دیگر محکموں کے سربراہان نے شرکت کی اور اس اِنقلابی مالیاتی سکیم سے اِستفادہ کرنے کے لئے جموں و کشمیر کی حکمت عملی پر غور و خوض کیاجس کا مقصددیرپا شہری ترقی اور علاقائی معاشی نمو کو تیز کرنا ہے۔چیف سیکرٹری نے معیاری اور مالی طور پر قابلِ عمل منصوبہ جاتی تجاویز تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ شارٹ لسٹ کئے گئے تمام منصوبے اربن چیلنج فنڈ کی رہنما خطوط کے مطابق ہوں اور ان کی مضبوط فزیبلٹی سٹیڈیز، دیرپا مالیاتی ماڈلز اور واضح عمل درآمد کی حکمت عملی سے کی جائے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبے نہ صرف شہری علاقوں کی فوری بنیادی ڈھانچے کی ضروریات پورا کریں بلکہ طویل مدتی اِقتصادی مواقع بھی پیدا کرنے، شہری استحکام کومضبوط بنانے اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتربنانے اور ماحول دوست ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔چیف سیکرٹری نے مزیدکہاکہ مجوزہ منصوبوں کی بروقت جانچ اور منظوری کو آسان بنانے کے لئے وزارتِ مکانات و شہری امور کے ساتھ تال میل کی ضرور ت ہے۔ اُنہوں نے تمام شراکت داروںپر زور دیا کہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈِی آئی پی ) کی تیاری اور دیگر تمام ضروری کارروائیاں جلد مکمل کی جائیں تاکہ جموں و کشمیر اربن چیلنج فنڈ کے تحت دستیاب مواقع سے مؤثر طریقے سے فائدہ اُٹھا سکے۔اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری محکمہ مکانات و شہری ترقی(ایچ اینڈ یو ڈِی ڈِی) مندیپ کور نے میٹنگ کو بتایا کہ مرکزی حکومت نے اربن چیلنج فنڈ کو شہری مالیاتی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کے طور پر متعارف کیا ہے جس کے تحت شہروں اور یونین ٹیریٹریوںکو مرکزی مالی اِمداد، مارکیٹ پر مبنی فائنانسنگ اور ریاستوں و یوٹیز کے اِشتراک سے آمدنی پیدا کرنے والے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شروع کرنے کی ترغیب دینا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ ہائوسنگ اینڈ اَربن افیئرز (ایم او ایچ یو اے) کے ساتھ ابتدائی مذاکرات کے بعد جموں و کشمیر نے شہری ترقی کے چار بڑے منصوبوں کو شارٹ لسٹ کیا ہے جن کی مجموعی تخمینی لاگت 1,990.37کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں کے لئے 495.86 کروڑ روپے مرکزی اِمداد، 486.12 کروڑ روپے جموں و کشمیر حکومت کا حصہ جبکہ تقریباً 1,008.38 کروڑ روپے مارکیٹ پر مبنی مالیاتی ذرائع سے حاصل کئے جانے کی تجویز ہے۔متعلقہ میونسپل کمشنروں نے اپنے اپنے علاقوں کے شارٹ لسٹ کئے گئے منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔ میٹنگ کو بتایا گیا کہ اِبتدائی مرحلے میں والڈ سٹی اور نگین لیک فرنٹ ریوائٹلائزیشن منصوبے شامل کئے گئے ہیں جن کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، سیاحتی ڈھانچے کو فروغ دینا اور شہری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔میٹنگ میں ترنگ۔ توی ائیریا رِی جنریشن اینڈ گرین گروتھ پروجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیاجس کے تحت دریائے توی کے کنارے اور اس سے ملحقہ شہری علاقوں کی جامع بحالی، ماحول دوست ترقی اور اِقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ایک اور تجویز لدر ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ سے متعلق ہے جس کا مقصد دریائے لدر کے کنارے کو منصوبہ بند شہری نمو کا مرکز بنانا اور مربوط عوامی بنیادی ڈھانچے و بہتر شہری سہولیات کے ذریعے اننت ناگ کو ایک متبادل ترقیاتی شہر کے طور پر فروغ دینا ہے۔چوتھا منصوبہ کرپا۔کٹرا ریوائٹلائزیشن تھرو اِنٹگریٹیڈ پلگریمیج ایمینٹیز (ٹرانزٹ اورینٹیڈ ڈیولپمنٹ) کے عنوان سے پیش کیا گیاجس کا مقصد شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا،ٹرانسپورٹیشن سہولیات میں بہتری لانا اور سیاحوں کے لئے مربوط سہولیات فراہم کرکے شہر کٹرہ آنے والے عقیدت مندوں کے مجموعی تجربے کو مزید بہتر بنانا ہے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ ان انقلابی منصوبوں پر کامیاب عمل درآمد سے جموں و کشمیر کے شہری بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئے گی، عوامی خدمات مضبوط ہوں گی، سیاحت کو فروغ ملے گا، نجی سرمایہ کاری میں اِضافہ ہوگا اور جموں و کشمیر کے شہروں کو آنے والے وقتوں میں زیادہ متحرک، مستحکم اور معاشی طور پر مسابقتی بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔