وادی کشمیر میں سیاحتی شعبے میں نئے انداز کا عروج

وادی کشمیر میں سیاحتی شعبے میں نئے انداز کا عروج

وندے بھارت ایکسپریس اور روڈ ٹرپس سے مختصر قیام کے رجحان میں اضافہ

سرینگر// وادی کشمیر میں رواں موسمِ گرما کے دوران سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ بہتر سڑک اور ریل رابطوں، بالخصوص وندے بھارت ایکسپریس کی شروعات کے بعد کشمیر اب پہلے سے کہیں زیادہ آسانی سے قابلِ رسائی بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں پہلی بار آنے والے سیاحوں، ویک اینڈ مسافروں اور ذاتی گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہوٹل مالکان، ٹور آپریٹرز اور سیاحتی شعبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ نئی وندے بھارت ٹرین سروس نے کشمیر کی سیاحت کو نئی رفتار بخشی ہے۔ اس جدید ریل سروس کے ذریعے سفر کا وقت کم ہوا ہے اور وادی تک رسائی آسان بن گئی ہے، جس کے باعث مختصر مدت کے سیاحتی دوروں کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب بڑی تعداد میں سیاح چند دنوں کے لیے کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ پہلے جہاں سیاح ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ عرصہ وادی میں قیام کرتے تھے، وہیں اب دو سے چار روزہ دورے زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔ بہتر شاہراہوں اور ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں اضافے نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس نے نہ صرف مقامی سیاحت کو فروغ دیا ہے بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوں کے لیے کشمیر کو ایک آسان اور پْرکشش منزل بنا دیا ہے۔ گزشتہ برس مکمل ہونے والے ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل منصوبے اور اس کے تحت چلنے والی وندے بھارت ٹرینوں نے وادی کو سال بھر ملک کے دیگر حصوں سے جوڑ دیا ہے، جس سے سیاحت، تجارت اور مقامی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ تاہم سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ بعض نئے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سری نگر اور دیگر مشہور سیاحتی مقامات پر ذاتی گاڑیوں کی آمد میں اضافے کے باعث ٹریفک جام کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ شہر کی کئی سڑکوں پر رش معمول بن چکا ہے، جس سے مقامی باشندوں اور سیاحوں دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ مقامی معیشت، ہوٹل صنعت، ٹرانسپورٹ اور کاروباری شعبوں کے لیے خوش آئند ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک مینجمنٹ، پارکنگ سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحت کے اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکے۔ سیاحتی شعبے کے مبصرین کے مطابق کشمیر کی قدرتی خوبصورتی، دلکش جھیلیں، برف پوش پہاڑ، باغات اور بہتر سفری سہولیات مل کر وادی کو ملک کی مقبول ترین سیاحتی منزلوں میں تبدیل کر رہی ہیں، جبکہ وندے بھارت ایکسپریس اور جدید شاہراہیں اس ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔