مودی،ٹرمپ ملاقات میںبھارت،امریکہ تعلقات کو نئی سمت دینے پر اتفاق

مودی،ٹرمپ ملاقات میںبھارت،امریکہ تعلقات کو نئی سمت دینے پر اتفاق

بھارت پر حملہ ہوا تو امریکہ ساتھ کھڑا ہوگا، آبنائے ہرمز، ملاحوں کی سلامتی اور تجارتی معاہدے پر تفصیلی تبادلہ خیال

سرینگر// وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جی-7 سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی اہم ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، عالمی سلامتی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ملاحوں کے تحفظ اور مجوزہ تجارتی معاہدے سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال کے دوران بعض معاملات پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔یو این ایس کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی بحری تجارت اور سمندری راستوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کیلئے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور اس کا کھلا اور محفوظ رہنا عالمی تجارت کے تسلسل کیلئے ضروری ہے۔مودی نے خاص طور پر دنیا بھر کے سمندری راستوں پر خدمات انجام دینے والے لاکھوں بھارتی ملاحوں کی سلامتی کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بحری تجارت میں بھارتی ملاحوں کا اہم کردار ہے اور ان کی حفاظت بھارت کیلئے اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے پر عملدرآمد کے دوران ملاحوں کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔یہ مسئلہ اس پس منظر میں بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ حالیہ دنوں امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران ایک تجارتی جہاز پر موجود تین بھارتی ملاح ہلاک ہوگئے تھے، جس پر بھارت میں تشویش اور ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ امریکی صدر نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس افسوسناک واقعے کا علم ہے اور امریکہ اس معاملے پر بھارت کے ساتھ تعاون کرے گا۔ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور جب تک نریندر مودی اس کی قیادت کر رہے ہیں، بھارت عالمی معاملات میں بڑا اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی ایک انتہائی مضبوط اور باصلاحیت مذاکرات کار ہیں جو اپنے ملک کے مفادات کا بھرپور دفاع کرتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’’لوگ کہتے ہیں کہ مودی ایک نہایت نرم مزاج اور خوش اخلاق شخصیت ہیں، لیکن حقیقت میں وہ انتہائی مضبوط اور سخت مذاکرات کار ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مودی بھارتی عوام سے محبت کرتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک وہ وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں، بھارت کا امریکہ میں ایک مضبوط دوست موجود رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اگر بھارت کو کسی بیرونی خطرے یا حملے کا سامنا کرنا پڑا تو امریکہ اس کی مدد کیلئے موجود ہوگا۔ٹرمپ نے بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے بھی مثبت اشارے دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر مودی کی مذاکراتی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کے مشکل ترین مذاکرات کاروں میں شامل ہیں۔دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون، اقتصادی شراکت داری، خطے کی سلامتی اور عالمی استحکام کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ ٹرمپ نے اپنے 2020 کے بھارت دورے کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں دوبارہ بھارت کا دورہ کرنے کے خواہاں ہیں اور جلد اس حوالے سے منصوبہ بندی کی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق ادھر وزیر اعظم مودی نے جی-7 اجلاس کے توسیعی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات ایندھن، خوراک اور کھاد کی عالمی سپلائی چین پر مرتب ہو رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو اقتصادی جھٹکوں سے بچانے کیلئے مؤثر مالیاتی نظام وضع کرے۔ مودی نے اس موقع پر ’’امپیکٹ‘‘ کے نام سے ایک نئے بین الاقوامی فریم ورک کی تجویز بھی پیش کی، جس کا مقصد جی-7 ممالک، بھارت اور گلوبل ساو?تھ کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو ایسے ترقیاتی ماڈل کی ضرورت ہے جس میں صرف جی ڈی پی یا تجارتی حجم نہیں بلکہ عوامی فلاح، شراکت داری اور مساوی ترقی کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی ترقی کا فائدہ ہر ملک اور ہر طبقے تک پہنچنا چاہیے۔