مصنوعی ذہانت پر مبنی فیشل ریکگنیشن نظام، وسیع سی سی ٹی وی نیٹ ورک، اینٹی ڈرون آلات بھی نصب
سرینگر// سالانہ امرناتھ یاترا 2026 کے پیش نظر سیکورٹی ایجنسیوں نے سری نگر،جموں قومی شاہراہ اور مقدس امرناتھ غار کی جانب جانے والے تمام اہم راستوں پر سیکورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ 3 جولائی سے شروع ہونے والی اور 28 اگست تک جاری رہنے والی 57 روزہ یاترا کے دوران ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے، جس کے پیش نظر حکام نے ایک جامع اور کثیر سطحی سیکورٹی نظام نافذ کیا ہے۔حکام کے مطابق سیکورٹی گرڈ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس، جموں و کشمیر پولیس، بھارتی فوج اور دیگر مرکزی مسلح پولیس فورسز شامل ہیں۔ یاترا کے راستوں اور اہم مقامات کی حفاظت کے لیے تقریباً 700 کمپنیوں پر مشتمل سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق سیکورٹی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے جس میں ڈرونز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی فیشل ریکگنیشن نظام، وسیع سی سی ٹی وی نیٹ ورک، اینٹی ڈرون سسٹمز اور جدید نگرانی کے آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حساس مقامات پر تلاشی اور چیکنگ کے عمل کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مختلف سیکورٹی اداروں کے اعلیٰ افسران نے حالیہ ہفتوں میں متعدد جائزہ اجلاس منعقد کیے ہیں تاکہ تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر تال میل کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ سیکورٹی خامی کو دور کیا جا سکے۔قومی شاہراہ، پہلگام اور بالتل کے بیس کیمپوں سمیت حساس مقامات پر روڈ اوپننگ پارٹیز ایریا ڈومینیشن گشت، بم ناکارہ بنانے والی ٹیمیں، تربیت یافتہ کتوں کے دستے اور اینٹی ڈرون یونٹس کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ایک سینئر سیکورٹی افسر نے بتایا کہ توجہ مجموعی سیکورٹی نظام کو مضبوط بنانے، شاہراہ کی حفاظت، ٹریفک مینجمنٹ، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطے پر مرکوز ہے تاکہ یاتریوں کو محفوظ اور سہل ماحول فراہم کیا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل جی پی سنگھ نے حالیہ جائزہ اجلاس کے دوران اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ مکمل چوکسی برقرار رکھیں اور یاترا کے پرامن اور محفوظ انعقاد کے لیے پیشگی اقدامات اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ امرناتھ یاترا 2026 کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے چوبیس گھنٹے نگرانی اور فعال سیکورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔ادھر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نئی دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام سیکورٹی اداروں کو یاترا کے لیے ناقابلِ تسخیر کثیر سطحی سیکورٹی حصار قائم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سیکورٹی کے روایتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈرونز، سی سی ٹی وی نگرانی اور جدید تکنیکی آلات کے وسیع استعمال پر زور دیا۔حکام کے مطابق پہلگام راستے پر خصوصی طور پر اے آئی سے چلنے والے فیشل ریکگنیشن سسٹمز، کیو آر کوڈ تصدیق، آر ایف آئی ڈی ٹریکنگ نظام، بلند نگرانی ٹاورز اور نائٹ ویڑن آلات نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ 3,888 میٹر کی بلندی پر واقع مقدس غار تک جانے والے راستے پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔موسمی رکاوٹوں کی صورت میں یاتریوں کی سہولت کے لیے قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر اضافی ہولڈنگ ایریاز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حساس علاقوں کے اوپر نو فلائی زون نافذ کیا گیا ہے جبکہ جموں،سری نگر ریلوے کوریڈور اور یاتریوں کے زیر استعمال ریلوے خدمات کی سیکورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے۔حکام نے یاتریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف مجاز ذرائع سے رجسٹریشن کروائیں، جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ سالانہ یاترا کو پرامن اور کامیاب بنایا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ یاتریوں کی جان و مال کا تحفظ اور انہیں ایک محفوظ، منظم اور سہل یاترا کا تجربہ فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔










