modi trump G7

تنازعات کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے

جی،7 اجلاس میںآبنائے ہرمز کی کشیدگی پر تشویش، سمندری راستوں اور ملاحوں کے تحفظ کی وکلات

سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگی اور تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کریں۔یو این ایس کے مطابق جی،7 سربراہی اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی عالمی حالات میں امن، استحکام اور خوشحالی کا واحد راستہ مکالمے اور اعتماد سازی سے ہو کر گزرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق فرانس کے شہر ایویان،لے،بینس میں منعقدہ جی،7 سربراہ اجلاس کے خصوصی اجلاس ’’نئی شراکت داریوں کی تشکیل اور عالمی یکجہتی کی بحالی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ باہم مربوط اور ایک دوسرے پر منحصر ہو چکی ہے، جہاں کسی ایک ملک کی توانائی، خوراک، صحت، سائبر سکیورٹی اور معاشی صورتحال براہ راست دیگر ممالک کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں بین الاقوامی شراکت داری کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، تاہم یہ شراکت داری صرف اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب اس کی بنیاد باہمی اعتماد پر رکھی جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج کے دور میں کسی ملک کی طاقت صرف قدرتی وسائل، ٹیکنالوجی یا منڈیوں سے نہیں بلکہ اس اعتماد سے ماپی جاتی ہے جو عالمی برادری ایک دوسرے پر کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تجارت، ٹیکنالوجی اور سپلائی چینز کو سیاسی یا تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تو عالمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچے گا اور ترقی کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔مودی نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے عالمی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں تنازعات نے نہ صرف انسانی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ عالمی تجارت اور معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے اہم بحری راستوں کا محفوظ رہنا عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ سمندری راستوں کو ہر حال میں محفوظ بنایا جائے تاکہ بین الاقوامی تجارت متاثر نہ ہو اور ملاح بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ مودی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیج عمان میں حالیہ امریکی فوجی کارروائی کے دوران تین بھارتی ملاح ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد بھارت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔وزیر اعظم نے ترقی پذیر ممالک کے کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک اب صرف امداد حاصل کرنے والے فریق نہیں رہنا چاہتے بلکہ وہ عالمی ترقی کے مساوی شراکت دار بننے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو عطیہ دہندہ اور وصول کنندہ کی روایتی سوچ سے باہر نکل کر مساوات اور احترام پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینا ہوگا۔یو این ایس کے مطابق مودی نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ ’’انسانیت پہلے‘‘ کے اصول کو اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں کا مرکز بنایا ہے۔ انہوں نے مالی شمولیت، ڈیجیٹل شناخت، صحت عامہ، خواتین کو بااختیار بنانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے شعبوں میں بھارت کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی امنگوں سے ہم آہنگ ترقی ہی پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی 16 ماہ بعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور مختصر تبادلہ خیال کیا، جبکہ بدھ کو ایک تفصیلی دوطرفہ ملاقات بھی متوقع ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس ملاقات میں دفاعی تعاون، تجارتی تعلقات، علاقائی سلامتی اور عالمی چیلنجز سمیت مختلف اہم امور زیر بحث آئیں گے۔ دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات فروری 2025 میں واشنگٹن میں ہوئی تھی۔وزیر اعظم مودی نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی سے بھی ملاقات کی، جس میں تجارت، توانائی، تعلیم، اختراع اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔مبصرین کے مطابق جی-7 اجلاس میں وزیر اعظم مودی کا خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا متعدد جغرافیائی، اقتصادی اور سلامتی کے چیلنجز سے دوچار ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور کثیرالجہتی تعاون کی وکالت کرتے ہوئے خود کو ایک ذمہ دار اور تعمیری عالمی شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔