کمزوریاں اور بہتری کے پہلو زیر بحث، عوامی مطالبات کو ترجیح // وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز شمالی کشمیر کے ضلع باندی پورہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وزراء اور مشیروں کے ہمراہ ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اقدامات کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔یو این ایس کے مطابق اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ سال کے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس دوران مختلف شعبوں میں موجود خامیوں اور بہتری کے مواقع کی نشاندہی بھی کی گئی۔ ان کے مطابق اس جائزے کا بنیادی مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں مقامی نمائندوں، جن میں گریز، باندی پورہ اور سونا واری کے ارکان اسمبلی شامل تھے، نے اپنے حلقوں کے عوامی مسائل، ضروریات اور ترقیاتی تقاضوں کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق ان تمام مسائل کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور انہیں ممکن حد تک حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ دستیاب وسائل اور انتظامی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عوامی مسائل حل کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘‘ہم اپنی طرف سے جو ممکن ہوگا وہ ضرور کریں گے’’ تاکہ ترقیاتی عمل میں تیزی لائی جا سکے۔دورے کے دوران باندی پورہ ضلع اسپتال کو بھی زیر بحث لایا گیا، جسے 2019 میں نئی عمارت میں منتقل کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اسے باقاعدہ طور پر ضلع اسپتال کا درجہ نہیں دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس مسئلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اجلاس میں تفصیل سے زیر غور آیا ہے اور متعلقہ محکمے کو اس پر پیش رفت کی ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر سکینہ ایتو، جو آن لائن اجلاس میں شریک تھیں، نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے محکمے سے متعلق تمام باقی ماندہ امور جلد مکمل کیے جائیں گے۔قومی سیاست سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات پر انفرادی جماعتوں کو خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس کے ارکان پارلیمنٹ کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے، جبکہ دیگر جماعتیں اپنے فیصلے خود کرنے میں آزاد ہیں۔










