چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر میں کثیر جہتی غربت کو کم کرنے کے فریم ورک کی وضاحت کی

سرینگر//چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں کثیر جہتی غربت انڈیکس ( ایم بی آئی ) کی موجودہ صورتحال کا جائیزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی جائیزہ میٹنگ کی صدارت کی اور یو ٹی بھر میں غربت کی سطح کو مزید کم کرنے کیلئے درکار ہدفی مداخلتوں پر غور کیا ۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ خزانہ ، کمشنر سیکرٹری خوراک ، شہری سپلائیز اور امور صارفین ، کمشنر سیکرٹری منصوبہ بندی ، ترقی اور مانیٹرنگ ڈیپارٹمنٹ ، کمشنر سیکرٹری صحت اور طبی تعلیم ، کمشنر سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود ، سیکرٹری دیہی ترقی اور محکمہ منصوبہ بندی کے سینئر افسران نے شرکت کی ۔ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی ۔ جموں و کشمیر میں کثیر جہتی غربت کے واقعات اور صحت ، تعلیم اور معیار زندگی کے تین وسیع جہتوں میں محرومی کی وضاحت کرنے والے اشارے کا جائیزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے ہر ضلع میں کمزور گھرانوں کی شناخت پر زور دیا ۔ انہوں نے محکمہ منصوبہ بندی کو ہدایت دی کہ وہ آنے والے این ایف ایچ ایس 6 سروے سے سامنے آنے والے تازہ ترین ڈیٹا کا جامع تجزیہ کرے اور انفرادی اشاریوں کو بہتر بنانے اور وقت کے ساتھ ساتھ غربت میں کمی کو تیز کرنے کے مقصد سے ضلع کے لئے مخصوص ایکشن پلان تیار کرے ۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ کئی مرکزی اسپانسرڈ اسکیمیں پہلے ہی غربت کے مختلف جہتوں سے نمٹنے کیلئے موثر آلات فراہم کرتی ہیں ۔ انہوں نے قومی فوڈ سیکورٹی ایکٹ ، آیوشمان بھارت ، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اقدامات ، ہاوسنگ اسکیمیں ، اجولا یوجنا اور مالی شمولیت کے پروگرام جیسے اہم پروگراموں کو زندگی کے معیار کو بہتر بنانے اور محرومیوں کو کم کرنے کے اہم اوزار کے طور پر اجاگر کیا ۔ انہوں نے ان اسکیموں کو یکجا کرنے اور جہاں بھی ضرورت ہو سرمایہ خرچ کے ذریعے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے محکمہ منصوبہ بندی کو مزید ہدایت دی کہ وہ کمزور گھرانوں کے ضلعی سطح کے جائیزے کیلئے ایک معیاری سروے فارمیٹ وضع کرے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایسے خلاء اور ترجیحی علاقوں کی نشاندہی کرنے کیلئے کام کرے جن میں توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس شلیندر کمار نے اضلاع کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے سالانہ ترقیاتی منصوبوں میں غربت میں کمی کے اقدامات کو شامل کریں اور مزید ہدفی اور قابل عمل مداخلتوں کیلئے اے اے وائی گھرانوں پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت پر زور دیا ۔ اجلاس میں کثیر جہتی غربت میں کمی کیلئے مختلف سرکاری اسکیموں کے تعاون کا بھی جائیزہ لیا گیا ۔