mehbooba mufti

محرم جلوسوں کی اجازت دی جائے// محبوبہ مفتی

سرینگر// یو این ایس //پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وادی کشمیر میں محرم الحرام کے جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کی اجازت دی جائے اور ایران سے متعلق حالیہ پیش رفت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔یو این ایس کے مطابق منگل کو جاری ایک بیان میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ محرم الحرام کے جلوس اور مجالس جموں و کشمیر کی مذہبی، ثقافتی اور روحانی روایات کا اہم حصہ ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مذہبی جذبات اور آئینی حقوق کا احترام کرتے ہوئے ان کے پرامن انعقاد کو یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ محرم صرف ایک مذہبی موقع نہیں بلکہ قربانی، صبر، انصاف اور انسانی وقار کے آفاقی پیغام کی یاد دہانی بھی ہے۔ امام حسینؓ کی تعلیمات آج بھی دنیا بھر میں مظلوموں اور حق کے متلاشی افراد کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اس لیے ان ایام کے دوران عزاداروں کو اپنے عقائد کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی ملنی چاہیے۔پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے محرم گہری مذہبی، تاریخی اور جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ جلوسوں اور مجالس کے دوران ٹریفک نظم و نسق، صحت کی سہولیات، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی، بجلی اور دیگر بنیادی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔محبوبہ مفتی نے ایران سے متعلق حالیہ واقعات کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد بعض نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیے جانے اور انہیں جموں و کشمیر سے باہر مختلف جیلوں میں منتقل کیے جانے کی اطلاعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نوجوانوں میں مزید بے چینی اور احساسِ محرومی کو جنم دے سکتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ محرم کے مقدس مہینے میں نوجوانوں کے خلاف سخت قوانین کا استعمال نہ صرف غیر حساس رویہ ہے بلکہ اس کے منفی سماجی اور نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو سزا اور دباؤ کی پالیسی کے بجائے عوامی جذبات کو سمجھنے اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور اعتماد سازی کے اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔سابق وزیر اعلیٰ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام معاملات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، زیر حراست نوجوانوں کو رہا کیا جائے اور مزید سخت کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات اور جذبات سے نمٹنے کے لیے مکالمہ، برداشت اور مثبت رابطہ ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔محبوبہ مفتی نے اس امید کا اظہار کیا کہ انتظامیہ محرم الحرام کے تقدس، عوامی جذبات اور جموں و کشمیر کی دیرینہ مذہبی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کرے گی جو امن، ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔