محمد عرفات وانی

اردو ادب کی دنیا اس وقت ایک عظیم خسارے سے دوچار ہوگئی جب معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ احساس، محبت، یاد، درد، تنہائی اور انسانیت کی ایک مکمل دنیا تھے۔ ان کی شاعری نے کئی نسلوں کے دلوں کو چھوا۔ ان کے اشعار کتابوں تک محدود نہیں رہے بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے۔ چائے خانوں سے لے کر ادبی محفلوں تک، یونیورسٹیوں سے لے کر سوشل میڈیا تک، ہر جگہ بشیر بدر صاحب کے اشعار گونجتے رہے۔ ان کی شاعری میں سادگی تھی مگر یہی سادگی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔
ڈاکٹر بشیر بدر 15 فروری 1935 کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ اور باوقار خاندان سے تھا۔ بچپن ہی سے ان کے اندر ادب اور شاعری کا ذوق موجود تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سات برس کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ یہی ابتدائی شوق آگے چل کر اردو ادب کے ایک عظیم باب میں تبدیل ہوگیا۔ ان کے بچپن کے مشاہدات، سماجی حالات، انسانی رشتے اور زندگی کی تلخ حقیقتیں بعد میں ان کی شاعری کا اہم حصہ بنیں۔
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے بی اے، ایم اے اور بعد ازاں اردو ادب میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ وہ نہ صرف ایک بہترین شاعر تھے بلکہ ایک قابل استاد اور محقق بھی تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں اور بعد میں میرٹھ کالج کے شعبہ اردو کے صدر بھی رہے۔ ان کی علمی شخصیت اور ادبی خدمات نے انہیں اردو دنیا میں منفرد مقام عطا کیا۔
بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی تھی۔ انہوں نے مشکل الفاظ، پیچیدہ استعاروں اور مصنوعی انداز کے بجائے عام انسان کے دل کی زبان کو اپنایا۔ وہ محبت، جدائی، تنہائی، بچھڑتے رشتوں، یادوں، امید اور زندگی کی چھوٹی چھوٹی حقیقتوں کو اس انداز میں بیان کرتے تھے کہ ہر شخص کو لگتا تھا جیسے شاعر اس کے دل کی بات کہہ رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہوئی۔ ان کا یہ مشہور شعر کہ
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ انسانی درد اور سماجی حقیقت کا آئینہ بن گیا۔ اسی طرح ان کا یہ شعر کہ
“اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے”
آج بھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ ان کے اشعار میں درد بھی تھا، محبت بھی، فلسفہ بھی اور زندگی کی گہری سچائیاں بھی۔
مشاعروں میں بشیر بدر صاحب کی موجودگی سامعین کے لیے کسی تہوار سے کم نہیں ہوتی تھی۔ جب وہ اسٹیج پر آتے تو پورا ہال خاموشی سے ان کی شاعری سنتا۔ ان کا انداز نہایت سادہ، پرسوز اور دلنشین تھا۔ وہ چیخ کر یا مصنوعی انداز میں شعر نہیں پڑھتے تھے بلکہ ان کے الفاظ خود اثر پیدا کرتے تھے۔ ان کے اشعار ہندوستان ہی نہیں بلکہ پاکستان، خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ تک اردو ادب کے شائقین میں بےحد مقبول ہوئے۔
لیکن ان کی زندگی صرف کامیابیوں سے عبارت نہیں تھی۔ 1987 کے میرٹھ فسادات ان کی زندگی کا سب سے المناک باب ثابت ہوئے۔ ان کا گھر جلا دیا گیا اور اس کے ساتھ ہزاروں کتابیں، ڈائریاں، قیمتی کاغذات اور کئی غیر مطبوعہ تحریریں بھی خاکستر ہوگئیں۔ ایک ادیب کے لیے اس سے بڑا نقصان شاید ہی کوئی اور ہوسکتا ہے۔ اس حادثے نے انہیں اندر سے توڑ دیا مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی نفرت کو اپنی شاعری میں جگہ نہیں دی۔ انہوں نے انتقام کے بجائے انسانیت، محبت اور صبر کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وصف انہیں ایک بڑے شاعر کے ساتھ ساتھ ایک بڑا انسان بھی بناتا ہے۔
فسادات کے بعد وہ بھوپال منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے اپنی بقیہ زندگی گزاری۔ اسی دوران ان کی کئی اہم شعری اور تنقیدی کتابیں منظر عام پر آئیں جن میں آمد، آہٹ، اکائی، امیج، کلیاتِ بشیر بدر اور اجالے اپنی یادوں کے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے تنقید کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور اردو غزل کے جدید رجحانات پر اہم کام کیا۔
بشیر بدر نے جدید اردو غزل کو ایک نئی سمت عطا کی۔ انہوں نے کلاسیکی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید دور کے احساسات، مسائل اور جذبات کو شاعری کا حصہ بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سادہ زبان میں بھی بڑی بات کہی جاسکتی ہے۔ ان کی شاعری میں بناوٹ نہیں تھی بلکہ خلوص، سچائی اور انسان دوستی تھی۔
ان کے کئی اشعار سیاسی، سماجی اور انسانی سطح پر بھی بےحد مشہور ہوئے۔ ان کا یہ شعر:
“دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں”
انسانی رشتوں، برداشت اور مفاہمت کا خوبصورت پیغام بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست دانوں، صحافیوں، دانشوروں اور عام لوگوں تک سبھی ان کے اشعار نقل کرتے تھے۔
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں بھارت کا باوقار پدم شری ایوارڈ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ساہتیہ اکادمی سمیت کئی ادبی اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا۔ شہرت اور کامیابی کے باوجود ان کی طبیعت میں عاجزی، انکساری اور سادگی ہمیشہ برقرار رہی۔
زندگی کے آخری برسوں میں وہ ڈیمنشیا اور دیگر عمر رسیدہ بیماریوں کا شکار ہوگئے تھے۔ آہستہ آہستہ وہ ادبی محفلوں سے دور ہوتے گئے۔ یہ منظر ان کے چاہنے والوں کے لیے نہایت دردناک تھا کہ وہ شاعر جس نے لاکھوں لوگوں کو یادوں اور جذبات کی زبان دی، خود اپنی یادداشت کھونے لگا۔
28 مئی 2026 کو بھوپال میں 91 برس کی عمر میں بشیر بدر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی وفات کے ساتھ اردو شاعری کا ایک روشن باب اختتام پذیر ہوگیا۔ ہندوستان بھر میں ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، فنکاروں اور ادب دوست حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ہر شخص یہی محسوس کررہا تھا کہ اردو ادب کا ایک عہد ختم ہوگیا ہے۔
ان کی نماز جنازہ نہایت سادگی مگر عقیدت کے ماحول میں ادا کی گئی۔ لوگ صرف ایک شاعر کو رخصت کرنے نہیں آئے تھے بلکہ ایک ایسے انسان کو الوداع کہنے آئے تھے جس کے الفاظ برسوں سے ان کے دلوں کا سہارا بنے ہوئے تھے۔ آج اگرچہ بشیر بدر ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔ ان کے اشعار آج بھی ٹوٹے دلوں کو سکون دیتے ہیں، نوجوان لکھنے والوں کو متاثر کرتے ہیں اور انسان کو انسانیت کا درس دیتے ہیں۔ شور، نفرت اور مصنوعی پن سے بھرے اس دور میں بشیر بدر کی شاعری محبت، سادگی اور خلوص کی ایک روشن مثال بن کر باقی رہے گی۔
وہ صرف شاعر نہیں تھے، وہ انسانی جذبات کی آواز تھے۔
اور ایسی آوازیں کبھی خاموش نہیں ہوتیں۔










